بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا

بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا

ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، ایسے میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف متفرق درخواست جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں شہریوں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ مہنگی بجلی کے باوجود شہری مسلسل لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں ، جو نہ صرف عوامی زندگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شہریوں کو بلا امتیاز بجلی فراہم نہیں کی جا رہی، جس کے باعث کئی علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔

درخواست میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار شدید مشکلات کا شکار ہیں،  روزمرہ کی زندگی میں خلل کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور گھریلو سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جس سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :لوڈ سے زائد بجلی استعمال کرنیوالے صارفین ہو جائیں ہوشیار ، لیسکو کا بڑا فیصلہ

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرے کہ شہریوں کو بلا امتیاز بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ مزید برآں، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔

واضح رہے کہ پاور ڈویژن نے ملک بھر میں شام کے اوقات کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔

پاور ڈویژن نے ملک بھر میں شام کے اوقات میں سوا 2 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کیلئے کیا جا رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق شام 5 بجے سے رات 1 بجے کے درمیان روزانہ 2.25 گھنٹے بجلی بند کی جائے گی، جبکہ اس لوڈ مینجمنٹ کا مقصد فی یونٹ تقریباً 3 روپے تک ممکنہ اضافے کو روکنا ہے،جولائی تا فروری بجلی صارفین کو 46 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا، جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بجلی 71 پیسے فی یونٹ تک سستی کی گئی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *