مغربی افریقی ملک نائجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں ایک ہولناک فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 200 افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق، یہ واقعہ ریاست بورنو کے دارالحکومت میدوگوری کے قریبی علاقے میں پیش آیا، جہاں نائجیرین فضائیہ نے شدت پسند تنظیم ‘بوکو حرام’ کی موجودگی کے شبے میں بمباری کی۔
نائجیریا کی فضائیہ نے اپنے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بورنو ریاست میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر انہیں ہلاک کر دیا ہے۔
تاہم پڑوسی ریاست یوبی کی حکومت نے ایک متضاد اور تشویشناک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق یہ حملہ ایک عوامی بازار کے بالکل قریب کیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں شہری موجود تھے۔ یہ حملہ بورنو اور یوبی کی سرحد پر واقع ایک ایسے گاؤں میں ہوا جو طویل عرصے سے جاری شورش کا مرکز رہا ہے۔
یاد رہے کہ نائجیریا کے اس خطے میں بوکو حرام اور دیگر شدت پسند گروپوں کے خلاف جاری لڑائی میں اب تک ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہو کر کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ حالیہ حملے میں عام شہریوں کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے خدشے نے نائجیریا کی عسکری حکمتِ عملی اور انٹیلیجنس کی درستگی پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ نائجیریا کی ریاست بورنو گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بوکو حرام کی پرتشدد کارروائیوں کا گڑھ بنی ہوئی ہے۔
فضائیہ کی جانب سے اکثر و بیشتر ان علاقوں میں بمباری کی جاتی ہے، لیکن ماضی میں بھی کئی بار انٹیلیجنس کی غلطی کے باعث پناہ گزین کیمپوں اور بازاروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ یوبی ریاست کے حکام کا بازار کے قریب حملے کا دعویٰ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شاید اس بار بھی دہشت گردوں اور شہریوں کے درمیان تمیز کرنے میں بڑی چوک ہوئی ہے۔