سی پی پی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات میں بجلی کی پیداوار کے ذرائع کی تفصیل بھی پیش کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے دوران 23 فیصد بجلی ہائیڈل ذرائع سے حاصل کی گئی، جبکہ 22 فیصد پیداوار نیوکلیئر ذرائع سے ہوئی ، اسی طرح مقامی اور درآمدی کوئلے کے ذریعے 30 فیصد بجلی پیدا کی گئی، جو مجموعی پیداوار کا بڑا حصہ بنتا ہے، گیس سے 10 فیصد اور آر ایل این جی سے 5 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ ایک معمول کا عمل ہے، جس کے ذریعے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو بجلی کے نرخوں میں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے تاہم، حالیہ مہنگائی کے تناظر میں معمولی اضافے بھی صارفین کے بجٹ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب، صارفین اور کاروباری حلقے اس ممکنہ اضافے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ پہلے ہی توانائی کی قیمتیں بلند سطح پر ہیں۔ اگر نیپرا اس درخواست کو منظور کر لیتا ہے تو بجلی کے صارفین کو آئندہ بلوں میں اضافی رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔