مقبوضہ جموں کشمیر کے شہریوں نے آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں میں ہڑتالوں اور احتجاج کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے اور انتشار پھیلانے والے عناصر کو سخت آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے ایک تاریخی بازار ’للہ دید‘ سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے دونوں طرف کے کشمیریوں اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں ایک مقامی کشمیری شہری نے آزاد کشمیر کی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے انتہائی غصے اور بیزاری کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سری نگر کے ’للہ دید بازار‘ سے ایک عام کشمیری شہری آزاد کشمیر میں امن کو سبوتاژ کرنے والوں کو کھری کھری سناتے ہوئے کہتا ہے کہ ’آپ لوگوں کو آزادی کی حقیقی قیمت کا کیا اندازہ ہے؟ ادھر مقبوضہ کشمیر آؤ اور دیکھو جہاں روز عزتیں تار تار ہو رہی ہیں اور نوجوانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
شہری نے انتہائی سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والے شرپسند عناصر کو بھارتی سیکیورٹی مشیر ’اجیت دوول کے پالتو‘ قرار دیا اور کہا کہ تم سب کے منہ پر کالک ملنی چاہیے، بے غیرتو! اس نام نہاد احتجاج پر تم پر لعنت ہونی چاہیے۔
مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کی طرف سے آزاد کشمیر کی صورتحال پر اس طرح کا شدید ردِعمل پہلی بار سامنے آیا ہے۔
اس پیغام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے اس پار رہنے والے مظلوم کشمیری، جو دہائیوں سے بھارتی فوج کے ظلم و ستم کا سامنا کر رہے ہیں، وہ آزاد کشمیر میں کسی بھی قسم کی بدامنی، پولیس پر حملوں اور اندرونی خلفشار کو بھارت کے حق میں اور تحریکِ آزادی کے لیے ایک بڑا نقصان سمجھتے ہیں۔
آزاد کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصے سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے آٹے اور بجلی کے بلوں پر سبسڈی کے نام پر احتجاجی مہم چلائی جا رہی تھی، جس نے حالیہ دنوں میں پرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے۔
میرپور میں جہاں عوام نے ہڑتال کو مسترد کر کے دکانیں کھول دیں، وہیں راولاکوٹ جیسے علاقوں میں شرپسندوں نے پولیس کی فلیگ مارچ پارٹی پر کلاشنکوف سے 30 سے زیادہ گولیاں برسائیں، جس سے انتشاری کیفیت میں مزید اضافہ ہوا۔
مقبوضہ کشمیر جہاں 1947 سے بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف ایک طویل اور خونی تحریکِ آزادی چل رہی ہے، وہاں کے عوام آزاد کشمیر کو ‘تحریکِ آزادی کا بیس کیمپ’ (بنیادی مرکز) مانتے ہیں۔
جب بھی آزاد کشمیر میں اندرونی سیاسی یا معاشی مطالبات کی آڑ میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے یا سیکیورٹی اداروں پر حملے ہوتے ہیں، تو بھارتی میڈیا اسے پاکستان اور آزاد کشمیر کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سری نگر کے ’للہ دید بازار‘ کے تاجروں اور عام شہریوں میں آزاد کشمیر کے مظاہرین کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے۔
بیس کیمپ کے تقدس کا پامال ہونا
مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے آزاد کشمیر ایک ’نعمت‘ اور پناہ گاہ کی مانند ہے جہاں وہ مکمل آزاد زندگی گزارتے ہیں۔ جب آزاد کشمیر کے چند شرپسند عناصر بجلی اور آٹے جیسے معاشی مسائل پر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں اور پولیس پر فائرنگ کرتے ہیں، تو مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کو شدید مایوسی ہوتی ہے۔ سری نگر کے شہری کا یہ کہنا کہ ’تمہیں آزادی کی قیمت کا اندازہ نہیں‘ اسی گہرے درد کی عکاسی کرتا ہے۔
بھارتی خفیہ سازشوں کا بے نقاب ہونا
مقبوضہ کشمیر کے شہری نے احتجاج کرنے والوں کو براہِ راست بھارتی سیکیورٹی مشیر اجیت دوول سے جوڑ کر ایک بہت بڑے اسٹرٹیجک خطرے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
دفاعی مبصرین طویل عرصے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک کے پیچھے چند ایسے مہرے شامل ہو چکے ہیں جنہیں سرحد پار سے فنڈنگ (مالی امداد) اور ہدایات مل رہی ہیں تاکہ پاکستان کو داخلی طور پر کمزور کیا جا سکے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام چونکہ خود اس بھارتی نظام کے اندر رہتے ہیں، اس لیے وہ ان چالوں کو زیادہ بہتر سمجھ رہے ہیں۔
بیانیے کی جنگ میں نیا موڑ
اب تک کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی خود کو ’مظلوم اور عوامی حقوق کی علمبردار‘ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن مقبوضہ کشمیر کے اس ویڈیو پیغام نے ان کے بیانیے کی اخلاقی حیثیت کو ختم کر دیا ہے۔
جب تحریکِ آزادی کے اصل حق دار ہی اس احتجاج پر ‘لعنت’ بھیج رہے ہوں، تو آزاد کشمیر کے عام پُرامن شہریوں کے لیے بھی اب ایسی کسی کمیٹی کا ساتھ دینا ناممکن ہو جائے گا۔