خیبرپختونخوا حکومت نے پنجاب کے کاشتکاروں سے 37 ہزار میٹرک ٹن گندم خرید لی۔
محکمہ خوراک خیبرپختونخوا کے مطابق خیبرپختونخوا کے گوداموں میں پہلے سے ہی 1لاکھ 43ہزار میٹرک ٹن گندم موجود ہے اور 30جون تک مزید 2لاکھ 86ہزار میٹرک ٹن گندم خریدی جائیگی۔ پنجاب کے کاشتکاروں سے 37ہزار میٹرک ٹن جبکہ پاسکو سے 1لاکھ 35ہزار میٹرک ٹن گندم خریدی گئی۔محکمہ خوراک نے بتایا کہ پشاور میں 22ہزار اور ڈی جی خان میں 40ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہےجبکہ نوشہرہ میں 74ہزار اور مردان میں 30ہزار میٹرک ٹن گندم خریدی جائیگی۔اس حوالے سے محکمہ خوراک کا کہنا ہے کہ صوبے کے سرکاری گوداموں میں 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم ذخیرہ کرنےکی گنجائش ہے۔
مزید پڑھیں: آٹا ملزمالکان نےمہنگی سرکاری گندم خریدنے سے انکار کردیا
گزشتہ روز وزیر خوراک خیبرپختونخواظاہر شاہ طورو نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ پہلے مرحلے میں ہم 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 40 کلو گندم کا ریٹ 3900 روپے رکھا گیا ہے۔ اس بار گندم کی خریداری کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائیگا۔ ظاہر شاہ طورو کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے کسانوں سے 17ہزار ٹن گندم خریدی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ امپورٹ کی گئی گندم خیبر پختونخوا کے لوگ پسند نہیں کرتے، خیبر پختونخوا میں 22 سینٹرز میں گندم کی خریداری کی جا رہی ہے، 20 مئی سے نئے مراحل میں گندم خریدی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کو فنڈز نہیں دیے جا رہے ہیں، گندم اور پانی پر ہمیشہ لڑائیاں رہی ہیں، گندم سٹوریج اس لئے ہوتا ہے تاکہ آفات میں اس کو استعمال کیا جائے، ہم نے جو فیصلہ کیا اس سے صوبے کو 12 ارب روپے کا فائدہ ہو گا۔ظاہر شاہ نے مزید کہا کہ فوڈ کے شعبے میں کرپشن ہوتی تھی اس لئے ایپ بنائی گئی، 14 لاکھ میٹرک ٹن گندم کا کسانوں نے ایپ میں اندراج کیا۔وزیرِ خوراک خیبر پختون خوا نے یہ بھی کہا ہے کہ صوبے میں 120 گرام کی روٹی 15 روپے کی ہے۔

