چین کا حیران کن سولر پینل، اب بارش میں بھی بنے گی بجلی

چین کا حیران کن سولر پینل، اب بارش میں بھی بنے گی بجلی

دنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی کی تلاش تیزی سے جاری ہے، لیکن سولر انرجی کا ایک بڑا مسئلہ ہمیشہ سے یہی رہا کہ سورج غائب ہوتے ہی بجلی کی پیداوار بھی کم ہو جاتی ہے۔ اب چینی سائنسدانوں نے ایک ایسی نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے جو اس مسئلے کو بدل سکتی ہے۔

چین کی سوچاو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک ایسا جدید سولر پینل تیار کیا ہے جو نہ صرف دھوپ میں بلکہ بارش کے دوران بھی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نئی ایجاد دنیا میں سولر انرجی کے مستقبل کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جدید اسپیشل فورسز اپنے نشانات کیسے مٹاتی ہیں؟ مستقبل کی جنگوں کا خاموش ہتھیار

سائنسدانوں کے مطابق اس نئے سسٹم میں روایتی سولر فوٹو وولٹک سیل کے اوپر دو شفاف پولیمر تہیں لگائی گئی ہیں۔ جب بارش کے قطرے ان تہوں پر گرتے اور پھسلتے ہیں تو ان کی رگڑ سے ’اسٹیٹک الیکٹرسٹی‘پیدا ہوتی ہے، جسے بجلی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

اس حیرت انگیز نظام کو ٹریبوالیکڑک نینوجینریٹر یا (TENG) ٹیکنالوجی کہا جا رہا ہے۔یہ ڈیوائس ہر قسم کے دن کے موسم میں بجلی پیدا کر سکتی ہے، اور اگر رات میں بارش ہو تو تب بھی یہ توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :گوگل کا بڑا اعلان، گوگل ہیلتھ اور فٹ بٹ ایئرکا فٹنس ٹریکر بینڈ متعارف

گزشتہ دس برسوں میں سولر پاور کی لاگت میں تقریباً 90 فیصد کمی آ چکی ہے، جس کے بعد یہ دنیا کے کئی ممالک میں سب سے سستی بجلی بن چکی ہے۔ لیکن اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ بادل یا رات کے وقت بجلی کی پیداوار تقریباً ختم ہو جاتی تھی۔

اگر یہ نئی ٹیکنالوجی کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں سولر پینلز صرف دھوپ ہی نہیں بلکہ بارش اور ممکنہ طور پر ہوا سے بھی توانائی حاصل کر سکیں گے۔چینی سائنسدان اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ سسٹم موبائل ڈیوائسز، اسمارٹ کپڑوں اور لچکدار الیکٹرانکس میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :انسٹاگرام پر بڑا فیصلہ، اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ختم، ڈی ایم سیکیورٹی ماڈل میں تبدیلی

ماہرین کے مطابق اگر اس ڈیوائس کی پاور ایفیشنسی مزید بہتر ہو گئی تو یہ توانائی کی دنیا میں ایک انقلاب ثابت ہو سکتی ہے۔تاہم کچھ ماہرین محتاط بھی ہیں۔ امریکی توانائی ماہر ورون سیوارام کے مطابق یہ آئیڈیا نہایت دلچسپ ہے، لیکن بارش کے قطروں سے پیدا ہونے والی توانائی کو اتنا مؤثر بنانا ہوگا کہ وہ واقعی سولر پینل کی مجموعی پاور آؤٹ پٹ میں بڑا کردار ادا کر سکے۔

اس کے باوجود دنیا بھر میں اس ایجاد کو مستقبل کی گرین انرجی ٹیکنالوجی کی ایک بڑی جھلک قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اگر سورج اور بارش دونوں سے بجلی حاصل ہونے لگے تو توانائی کے شعبے میں ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔

editor

Related Articles