پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوتے ہی ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے بڑھا دیے،عوام کا ایک اور امتحان شروع

پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوتے ہی ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے بڑھا دیے،عوام کا ایک اور امتحان شروع

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ سیکٹر نے بھی کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور مہنگائی کا نیا دباؤ سامنے آ گیا ہے۔

 حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فوری بعد بس ویگن اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں نظرثانی شروع کر دی گئی ہے۔ مختلف شہروں میں ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی فیول لاگت کے باعث موجودہ کرایوں پر سروس جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اسلام آباد، لاہور،کراچی ، کوئٹہ،ملتان پشاور، فیصل آباد، سرگودھا، سیالکوٹ،حیدرآباد،کوہاٹ،کشمیر سمیت ملک بھر میں ٹرانسپورٹروں نے ازخود کرائے بڑھا لیے ہیں آج بس اڈوں پر مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کے مابین بحث وتکرار کے واقعات بھی سامنے آے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا بوجھ براہ راست عوام پر ڈال دیا گیا ہے جبکہ پہلے ہی مہنگائی کی شرح بلند سطح پر ہے۔ روزمرہ سفر کرنے والے مسافروں، خصوصاً طلبہ اور ملازمین نے کرایوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ قبول نہیں، حکومتی فیصلہ چیلنج

ٹرانسپورٹ مالکان کے مطابق فیول کی قیمتوں میں اضافہ ان کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیتا ہے جس کے باعث انہیں کرایوں میں ردوبدل کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب شہریوں کا مؤقف ہے کہ ہر بار قیمتوں میں اضافے کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ کوئی مؤثر ریلیف میکانزم موجود نہیں۔

 پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر شعبوں کو متاثر کرتا ہے جس سے مجموعی مہنگائی کی شرح مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر فیول پر ٹیکسز اور لیویز میں کمی کی جائے تو عوام کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔

شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عام آدمی کو مزید معاشی دباؤ سے بچایا جا سکے۔

editor

Related Articles