پاور ڈویژن نے صنعتی صارفین کے لیے نئے پاور ٹیرف کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم انرجی چارجز کے متبادل ماڈل پر غور کیا جا رہا ہے تاہم صنعتوں پر اضافی فکسڈ چارجز عائد کرنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
حکام نے ان خبروں کو مسترد کیا کہ صنعتی شعبے میں سولر انرجی اپنانے پر صنعتوں کو سزا دی جائے گی یا انہیں اضافی فیسیں ادا کرنی ہوں گی، اور واضح کیا کہ یہ تاثر سراسر بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن نے کہا کہ مجوزہ نیا ٹیرف نظام اختیاری ہوگا اور تمام صنعتی صارفین اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق نئے متبادل ٹیرف یا موجودہ ٹیرف میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکیں گے، جبکہ حکومت کسی بھی صارف پر نئے ٹیرف کو اپنانے کے لیے دباؤ نہیں ڈالے گی۔
نئے متبادل ماڈل کی تفصیلات بتاتے ہوئے حکام نے کہا کہ اس میں “زیادہ فکسڈ اور کم انرجی چارجز” کا اسٹرکچر زیرِ غور ہے، جس سے 24 گھنٹے آپریشنل رہنے والی صنعتوں کو نمایاں فائدہ ہو گا۔
پاور ڈویژن نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتی شعبے میں سولر توانائی اپنانے پر کسی بھی قسم کی حوصلہ شکنی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اور تمام اقدامات صنعتی ترقی کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔