وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے نئے بجٹ میں نوجوان نسل میں تیزی سے مقبول ہوتے ’ویپنگ‘اور الیکٹرانک سگریٹ کلچر پر کاری ضرب لگاتے ہوئے ان مصنوعات پر ٹیکسوں میں نمایاں اور ریکارڈ اضافے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
اس اقدام کے نتیجے میں ملک میں درآمدی ویپ، ای سگریٹ اور ان سے جڑے فلیورز کی قیمتیں عام صارف کی پہنچ سے باہر ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق، حکومت نے الیکٹرانک سگریٹ میں استعمال ہونے والے بنیادی جزو یعنی ای-لیکوڈ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو موجودہ 10,000 روپے فی کلوگرام سے یکمشت بڑھا کر 16,500 روپے فی کلوگرام کرنے کی منظوری مانگی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس غیر معمولی اضافے کا بنیادی مقصد ملکی محصولات میں اضافہ، اس ابھرتے ہوئے شعبے کی مؤثر ریگولیشن اور نوجوانوں میں تمباکو و نکوٹین سے متعلق مصنوعات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
نیا ٹیکس فریم ورک؛ امپورٹ ٹیرف میں بڑی تبدیلیاں
حکومت نے ویپ، ای سگریٹ اور ان سے وابستہ فلیورنگ مصنوعات پر ڈیوٹیوں کا ایک نیا فریم ورک متعارف کرایا ہے۔ الیکٹرانک نکوٹین ڈلیوری سسٹمز اور ان میں استعمال ہونے والی فلیورڈ کارٹریجز پر ٹیکسیشن کا ڈھانچہ تبدیل کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق، ای سگریٹ مصنوعات پر پہلے سے نافذ ’زیادہ ریٹیل قیمت‘ کی بنیاد پر عائد 65 فیصد تک کا درآمدی ٹیرف ختم کر دیا گیا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ امپورٹ ٹیرف ختم ہونے کے باوجود ای-لیکوڈ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں ہونے والا بھاری اضافہ مجموعی ٹیکس بوجھ کو کئی گنا بڑھا دے گا، جس سے درآمدی لاگت مزید تیز ہوگی۔
روایتی سگریٹ انڈسٹری کو بڑا ریلیف؛ پیداواری لاگت کم ہونے کا امکان
ایک انتہائی چونکا دینے والے متوازی اقدام میں، وفاقی حکومت نے روایتی (عام) سگریٹ کی مقامی تیاری میں استعمال ہونے والے اہم ترین خام مال ’ایسیٹیٹ ٹو‘پر عائد درآمدی ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دی ہے۔
اس حیران کن فیصلے کے باعث ملکی مارکیٹ میں روایتی سگریٹ ساز کمپنیوں کی پیداواری لاگت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی، جس سے روایتی سگریٹ کی قیمتوں میں کمی یا استحکام کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف ویپ کو مہنگا اور دوسری طرف عام سگریٹ کے خام مال کو سستا کرنے کی یہ پالیسی مارکیٹ میں ایک نیا توازن پیدا کرے گی۔
پاکستان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران، بالخصوص شہری اور متمول طبقے کے نوجوانوں میں، روایتی سگریٹ کے متبادل کے طور پر ویپ اور الیکٹرانک سگریٹ کا استعمال ایک فیشن اور اسٹیٹس سمبل بن چکا ہے۔
کم عمر بچوں کو نکوٹین کی لت
عالمی سطح پر یہ بحث جاری ہے کہ آیا ای سگریٹ روایتی سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہیں یا نہیں، لیکن عالمی ادارہ صحت مسلسل حکومتوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ ویپنگ مصنوعات پر روایتی تمباکو کی طرح ہی بھاری ٹیکس عائد کریں تاکہ کم عمر بچوں کو نکوٹین کی لت سے بچایا جا سکے۔
پاکستان میں یہ مصنوعات زیادہ تر چین اور دیگر ممالک سے قانونی اور غیر قانونی (اسموگلنگ) راستوں سے درآمد کی جاتی ہیں۔
دوسری طرف، پاکستان کی روایتی سگریٹ انڈسٹری (جس میں بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں شامل ہیں) وفاقی حکومت کو سالانہ اربوں روپے کا ٹیکس ریونیو دیتی ہے۔
گزشتہ بجٹوں میں سگریٹ پر ایف ای ڈی میں بھاری اضافے کے باعث ملکی مارکیٹ میں قانونی سگریٹ مہنگے ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں غیر ٹیکس شدہ اور اسموگل شدہ سگریٹ کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔
سگریٹ کمپنیوں کی طاقتور لابی مسلسل حکومت پر دباؤ ڈال رہی تھی کہ خام مال پر ڈیوٹی کم کی جائے تاکہ وہ اسموگلڈ سگریٹ کا مقابلہ کر سکیں اور حکومت کا قانونی ریونیو برقرار رہے، یہی وجہ ہے کہ ‘ایسیٹیٹ ٹو’ پر ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ سامنے آیا۔