پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق بڑی خبر

پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق بڑی خبر

ٹک ٹاک پر مبینہ غیر اخلاقی اور نامناسب مواد کی موجودگی کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے سماعت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

درخواست کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر بابر شہزاد عمران نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹک ٹاک پر بے ہودہ اور غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی ہیں جس کے باعث معاشرتی اقدار متاثر ہو رہی ہیں اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس سے قبل عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے فائر وال سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی جس پر پی ٹی اے کی جانب سے رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے۔

سماعت کے دوران پی ٹی اے کے وکیل جہانزیب محسود نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھمز اس انداز میں کام کرتے ہیں کہ اگر کوئی صارف کسی مخصوص نوعیت کا مواد دیکھتا ہے تو بعد میں اسی قسم کا مزید مواد اس کے سامنے آتا رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جون کے باقی 13 دنوں میں 6 چھٹیاں، تفصیلات سامنے آگئیں

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مخصوص مواد کو مکمل طور پر بلاک کرنا ایک پیچیدہ اور مشکل عمل ہے تاہم پی ٹی اے اس حوالے سے مسلسل کام کر رہی ہے اور متعدد شکایات کی بنیاد پر کئی اکاؤنٹس بند بھی کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس اکاؤنٹ یا مواد کے بارے میں شکایت موصول ہوتی ہے اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی سیاسی پوسٹ کو بلاک کرنا ہو تو وہ فوری طور پر بلاک ہو جاتی ہے پھر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد کو روکنے میں مشکلات کیوں پیش آتی ہیں۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم ہو چکی ہے اور اب یہی ادارہ ایسے معاملات کو دیکھتا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر حکومت ٹک ٹاک کو کنٹرول نہیں کرتی تو لوگ اس کے خلاف باہر نکلیں گے، لہٰذا نئی اتھارٹی سے بھی جواب طلب کیا جائے۔

عدالت نے درخواست گزار کی استدعا منظور کرتے ہوئے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی سے رپورٹ طلب کر لی اور مزید سماعت ملتوی کر دیہ

editor

Related Articles