کراچی میں شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دھوپ میں مسلسل کام کرنے والے مزدور پیشہ افراد کے جسم کا درجہ حرارت عام شہریوں کے مقابلے میں 5.5 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو انسانی جسم کے لیے خطرناک حد تک بلند ہے اور مختلف اعضا کو متاثر کرنے کے ساتھ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
نجی اسپتال اور یونیورسٹی کے موسمیاتی، ماحولیاتی اور پیشہ ورانہ صحت کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر ظفر فاطمی کی جانب سے پیش کی گئی تحقیق میں ڈیلیوری رائیڈرز، ریڑھی بانوں، رکشہ ڈرائیوروں اور موٹر سائیکل سوار افراد کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ روزانہ کئی گھنٹے دھوپ میں کام کرنے والے افراد شدید گرمی کے باعث غیر معمولی جسمانی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر فاطمی نے کہا کہ مسلسل گرمی میں کام کرنے سے ہیٹ اسٹروک، دل کے دورے، سانس کی بیماریوں اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ان کے مطابق جسم سے پسینے کے ذریعے پانی اور نمکیات کا زیادہ اخراج صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیتا ہے، جبکہ پہلے سے دل، بلڈ پریشر یا پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے سفارش کی کہ شدید گرمی میں کام کرنے والے مزدوروں کو ہر چند گھنٹوں بعد 15 سے 20 منٹ کا وقفہ دیا جائے اور سڑکوں کے کنارے کولنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں تاکہ وہ پانی پی سکیں اور جسمانی درجہ حرارت کو معمول پر لا سکیں۔
ڈاکٹر ظفر فاطمی نے کراچی میں بڑھتے ہوئے “اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ” کو بھی تشویش ناک قرار دیا۔ ان کے مطابق کنکریٹ کی بڑھتی ہوئی تعمیرات، بلند عمارتیں، فضائی آلودگی اور درختوں کی کمی بعض علاقوں کو دوسرے علاقوں کے مقابلے میں زیادہ گرم بنا رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کراچی سینٹرل اس اثر سے زیادہ متاثر ہے کیونکہ وہاں کنکریٹ کی کثرت گرمی کو جذب کر کے ماحول کا درجہ حرارت بڑھا دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر کی بہتر منصوبہ بندی، درختوں کی شجرکاری، عمارتوں کے درمیان مناسب فاصلہ، پانی کی گزرگاہوں کا تحفظ اور مزدوروں کے لیے سایہ دار مقامات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر درختوں کی کٹائی اور بے ہنگم تعمیرات کا سلسلہ جاری رہا تو کراچی مستقبل میں مزید گرم اور رہائش کے لیے زیادہ مشکل شہر بن سکتا ہے۔
دوسری جانب سڑک کنارے پرندے فروخت کرنے والے انور علی نے بتایا کہ شدید گرمی نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور پرندوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایک ہی دن میں گرمی کی شدت کے باعث ان کے چار پرندے ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ پانی اور سایہ کی کمی نے ان کے روزگار کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں درختوں کی کمی کے باعث اب سایہ تلاش کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔