خیبرپختونخوا حکومت کا تین ماہ کا عبوری بجٹ لانے پر غور،وجہ سامنے آ گئی

خیبرپختونخوا حکومت کا تین ماہ کا عبوری بجٹ لانے پر غور،وجہ سامنے آ گئی

خیبرپختونخوا حکومت نے سیاسی اور آئینی صورتحال کے پیشِ نظر صوبائی اسمبلی میں تین ماہ کے لیے عبوری بجٹ (ووٹ آن اکاؤنٹ) پیش کرنے کے آپشن پر غور شروع کر دیا ہے جبکہ مکمل بجٹ بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت کے بعد پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت پاکستان تحریکِ انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ اور اس سے متعلق آئینی و قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس امکان پر غور کیا گیا کہ صوبائی حکومت مکمل سالانہ بجٹ کے بجائے ابتدائی طور پر تین ماہ کے اخراجات کے لیے عبوری بجٹ منظور کرائے تاکہ سرکاری امور اور ترقیاتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بجٹ کے معاملے پر بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت کی خواہاں ہے اور اسی تناظر میں بجٹ پیش کرنے کے وقت اور طریقہ کار کا تعین کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہے تو ایک ہی دن میں بجٹ پیش کر سکتی ہے، تاہم اس اہم معاملے پر سیاسی اور جماعتی مشاورت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 122، 123 اور 125 کے تحت ووٹ آن اکاؤنٹ پیش کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ ذرائع کے مطابق اراکین نے اس حوالے سے مختلف آئینی راستوں پر تبادلہ خیال کیا جبکہ مجوزہ اقدامات پر قانونی ماہرین سے رائے لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ میں گھی ،کراکری، شیمپو،جوتے ،مٹھایاں،مصالحے اور36 گھریلو اشیاء کون سی مہنگی ہوئیں،تفصیلات آگئیں

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر پارٹی اتحاد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریکِ انصاف کے تمام اراکین متحد ہیں اور کوئی رکن پارٹی پالیسی سے انحراف نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجٹ سمیت تمام اہم فیصلے پارٹی قیادت کی مشاورت سے کرے گی۔

 اگر خیبرپختونخوا حکومت تین ماہ کا عبوری بجٹ پیش کرتی ہے تو یہ ایک غیر معمولی سیاسی حکمتِ عملی ہوگی جس کا مقصد مالی معاملات کو جاری رکھتے ہوئے مکمل بجٹ کے لیے مزید سیاسی مشاورت کا وقت حاصل کرنا ہے۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کا سالانہ بجٹ 15 جون کے بعد پیش کیے جانے کا امکان ہے اور اس سلسلے میں حکومتی اور جماعتی سطح پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں تاخیر اور عبوری بجٹ پر غور صوبے میں جاری سیاسی کشیدگی اور تحریکِ انصاف کے اندرونی معاملات کی بھی عکاسی کرتا

editor

Related Articles