(تیمورخان)
خیبرپختونخواحکومت نے آئندہ مالی سال 2024-25 کے دوران نسواراورسگریٹ کیلئے استعمال ہونے والے تمباکو پر عائد ٹیکس میں 900فیصداضافے کافیصلہ کیا ہے۔
پہلی مرتبہ تمباکو پر صوبائی ایکسائز ڈیوٹی بھی عائد کی جائے گی ۔جو الگ سے تمباکوپر 50روپے فی کلو ٹیکس وصول کیا جائے گا جبکہ عوامی رد عمل کی وجہ سے صوبائی حکومت صوبے سے باہر رجسٹرڈ گاڑیوں پر ٹیکس لگانے سے دستبردار ہوگئی ہے۔
صوبائی حکومت نے فنانس بل میں ٹوبیکو ڈیویلپمنٹ سیس میں سگریٹ کیلئے استعمال ہونے والی تمباکو پر فی کلو کے حساب سے موجود 6روپے ٹیکس بڑھا کر 50روپے کی تجویز دی ہے جس سے سگریٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ملکی تمباکو پر 3روپے سے ٹیکس کو بڑھا30روپے کی تجویز ہے جبکہ نسوار کیلئے استعمال ہونے والے تمباکوپر 2روپے 50پیسے سے ٹیکس کو بڑھا کر 20روپے فی کلو کی تجویز ہے جس سے نسوار کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت نے تمباکو پر پہلی مرتبہ پروانشل ایکسائز ڈیوٹی بھی فی کلو 50روپے عائد کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔صوبائی حکومت نے گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایک فیصد تجویز دی ہے۔ 13سوسے 25سو سی سی گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 2فیصد سے کم کرکے ایک فیصد اور 25سو سی سی سے اوپر گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس کو 4فیصدسے کم کرکے ایک فیصدکرنے کی تجویز ہے۔اسی طرح رہائشی پراپرٹی کی ٹیکس میں معمولی اضافہ اور کمرشل پراپرٹی ٹیکس کو 16فیصدسے 10فیصد جبکہ بینکوں پر 16فیصدسے 15فیصدکی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے روڈ یوزر چارج ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کرلیاتھا جس کے تحت صوبے سے باہررجسٹرڈہونے والی گاڑیوں پر سالانہ ٹوکن ٹیکس کے حساب ٹیکس لیا جاناتھا۔
ٹیکسزکے حوالے سے ہونے والے میٹنگ میں اس کی مخالفت بھی کی گئی تھی کہ یہ ڈبل ٹیکسیشن ہے اور گاڑیوں کی پروفائلنگ کرنے کیلئے کوئی میکنزم ہی صوبائی حکومت کے پاس نہیں ہے تاہم یہ تجویز دی گئی تھی کہ مختلف مقامات پر چیک پوائنٹس قائم کرلئے جائیں گے لیکن نیشنل ہائی ویز سیفٹی آرڈنینس کے تحت ہائی ویز کا کنٹرول موٹر وے پولیس کے پاس ہے تو وہاں پر چیک پوائنٹس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبائی حکومت کا موقف تھا کہ اس ٹیکس سے وفاقی حکومت پر دباو ڈال کر این ایف سی میں صوبے کا شیئر 20سے 25ارب تک بڑھانے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ صوبائی حکومت کیمطابق سالانہ صوبے کے عوام گاڑیوں کی ٹیکس کی مد میں 20 سے 50 ارب روپے وفاق اور پنجاب میں جمع کرتے ہیں، رابطہ کرنے پر سیکرٹری ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکاٹکس کنٹرول فیاض علی شاہ نے بتایاکہ تمباکوصوبائی فصل ہے جس پر فی کلو کے حساب سے وفاقی حکومت 390روپے ٹیکس وصولی کررہی ہے جس سے صوبے کی ریونیو بھی جنریٹ ہوگی جبکہ سالانہ ہزاروں کے حساب سے صوبے کے لوگ اسلام آبادمیں گاڑیاں رجسٹرڈکرتے ہے اگر یہ صوبے میں رجسٹرڈہونا شروع ہوگئے تو اربوں روپے سالانہ صوبے کوفائدہ ہوگا۔

