وزیراعظم کی گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبہ جلد مکمل کرنے کی ہدایت

وزیراعظم کی گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبہ جلد مکمل کرنے کی ہدایت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے متعلقہ حکام کو اہم ہدایات جاری کر دی ہیں،وزیراعظم کی زیر صدارت گلگت بلتستان شمسی توانائی منصوبے پر جائزہ اجلاس ہوا، جس میں منصوبے پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ماحول دوست، صاف، سستی اور پائیدار توانائی کے فروغ کے لیے شمسی توانائی کا استعمال قومی توانائی پالیسی کا اہم حصہ ہے، انہوں نے کہا کہ 100 میگاواٹ سولر منصوبہ وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کے لیے ایک تحفہ ہے۔

خریداری کے عمل میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت

وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تنصیب اور بروقت تکمیل کے لیے اپنی ذمہ داریاں مکمل کی جائیں، جبکہ شمسی توانائی منصوبے کی خریداری کے تمام مراحل میں مکمل شفافیت یقینی بنائی جائے،انہوں نے واضح کیا کہ منصوبے سے متعلق تمام ادائیگیاں تیسرے فریق کی توثیق کے بعد کی جائیں۔

18 میگاواٹ سولر سسٹم دسمبر 2026 تک مکمل ہوگا

اجلاس کے شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت گلگت بلتستان کی 499 سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر بیٹری اسٹوریج کے ساتھ 18 میگاواٹ شمسی توانائی نظام نصب کیا جائے گا، جسے دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 82 میگاواٹ کے بڑے پیمانے کے شمسی توانائی منصوبے کا پی سی ون منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے۔

13 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچے گا

حکام نے بتایا کہ 82 میگاواٹ سولر منصوبے کی تکمیل سے تقریباً 13 لاکھ افراد مستفید ہوں گے، جبکہ اس سے گلگت بلتستان میں بجلی کی فراہمی کے معیار میں بہتری آئے گی اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

editor

Related Articles