خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی اداروں نے دہشتگردوں اور فتنہ الخوارج کے نیٹ ورک کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی اور کامیاب ترین کارروائیوں میں سے ایک کو سرانجام دیا ہے۔
پاک فوج مقامی پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک انتہائی خفیہ معلوماتی نظام کے تحت بنوں کے نواحی علاقے ’میریان‘ میں مشترکہ گرینڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 2 انتہائی مطلوب اور خطرناک سرغنوں سمیت 16 خوارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ اس شدید اور کٹھن ترین مقابلے کے دوران ہیرو کا کردار ادا کرتے ہوئے پولیس کے 2 جوانوں نے بھی جامِ شہادت نوش کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ میریان کے علاقے میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے بھاری ہتھیاروں سے لیس دہشتگردوں کا ایک بڑا گروپ کسی بڑی تخریب کاری کی منصوبہ بندی کے لیے خفیہ ٹھکانوں پر موجود ہے۔
اس حساس ترین اطلاع پر پاک فوج کے کمانڈوز، سی ٹی ڈی اور پولیس کی خصوصی ٹیموں نے مشترکہ طور پر علاقے کو چاروں طرف سے سخت محاصرے میں لے لیا۔ فورسز کو دیکھتے ہی دہشتگردوں نے خود کو پھنسا ہوا پا کر جدید اور خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور دستی بموں کا استعمال کیا۔
سیکیورٹی فورسز نے اسٹرٹیجک مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مؤثر جوابی کارروائی کی اور گھنٹوں جاری رہنے والے اس انتہائی کٹھن اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد تمام 16 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک خوارجیوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید ترین اسلحہ، خودکش جیکٹس اور بارودی مواد بھی برآمد کر لیا گیا ہے، جبکہ فورسز نے کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے کئی خفیہ ٹھکانے اور پناہ گاہیں بھی مکمل طور پر تباہ کر دی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے خوارجیوں میں علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث مرکزی خوارجی سرغنہ زمری نور اور ایک ہائی پروفائل افغان خوارجی کمانڈر عبداللہ سعید بھی شامل ہیں۔
ان دونوں کمانڈرز کا ہلاک ہونا فتنہ الخوارج کے تنظیمی ڈھانچے کے لیے ایک بہت بڑا اور کاری ضرب ثابت ہوگا۔ دوسری جانب، اس شدید فائرنگ کے تبادلے میں فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے پولیس کے 2 فرض شناس اہلکار کانسٹیبل وحید اللہ خان اور کانسٹیبل نور اللہ خان بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
جامِ شہادت نوش کرنے والے دونوں جانبازوں کی نمازِ جنازہ پولیس لائنز بنوں میں پورے سرکاری اور فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی، جہاں پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی۔
نمازِ جنازہ میں پاک فوج کے اعلیٰ عسکری حکام، سول انتظامیہ کے افسران، علاقائی عمائدین، پولیس فورس کے جوانوں اور شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کر کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے فتنہ الخوارج کے ملک دشمن عناصر کے خلاف اپنی مشترکہ کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری رکھیں گے اور پاکستان کی دھرتی سے آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔
بنوں اور فتنہ الخوارج کے خلاف حکمتِ عملی
خیبر پختونخوا کے اضلاع بالخصوص بنوں، لکی مروت اور شمالی وزیرستان طویل عرصے سے دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ پر رہے ہیں۔ سرحد پار سے آپریٹ کرنے والے افغان خوارجی عناصر مقامی نیٹ ورکس کی مدد سے ان علاقوں میں سیکیورٹی فورسز، پولیس لائنز اور عام شہریوں کو نشانہ بنا کر بدامنی پھیلانے کی کوششیں کرتے آئے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں حکومت اور عسکری قیادت نے دہشت گرد گروہوں کے لیے ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح کو باقاعدہ نافذ کیا ہے تاکہ ان کے اسلام دشمن چہرے کو بے نقاب کیا جا سکے۔ آج کا یہ کامیاب آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ اب انٹیلی جنس شیئرنگ اور فورسز (سول اور ملٹری) کے مابین کوآرڈینیشن پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے دہشت گردوں کو اب چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی۔