ب فارم اور برتھ سرٹیفکیٹ سے متعلق نادرا کا بڑا اعلان

ب فارم اور برتھ سرٹیفکیٹ سے متعلق نادرا کا بڑا اعلان

  نادرا نے بچوں کی پیدائش کے اندراج اور قانونی شناخت کے عمل کو مزید آسان اور تیز بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نیا “برتھ نوٹیفکیشن سسٹم” متعارف کرا دیا ہے۔

نئے نظام کے تحت اسپتال میں بچے کی پیدائش ہوتے ہی والدین کے موبائل فون پر فوری طور پر ایک مختصر پیغام موصول ہوگا، جس سے پیدائش کی رجسٹریشن کا عمل مزید سہل ہو جائے گا۔

نادرا کے ترجمان سید شباہت علی نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بچے کی قانونی شناخت کا عمل پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے جبکہ پاکستان میں اس حوالے سے تاخیر کا سامنا رہتا تھا۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے نادرا نے سرکاری اور نجی اسپتالوں کے تعاون سے جدید برتھ نوٹیفکیشن سسٹم متعارف کرایا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :فراڈ کا دور ختم، نادرا کا شہریوں کے لیے شانداراقدام

انہوں نے بتایا کہ بچے کی پیدائش کے بعد والدین کو موصول ہونے والا ایس ایم ایس یونین کونسل میں پیدائش کے اندراج کے عمل میں معاون ثابت ہوگا۔ والدین اپنے قومی شناختی کارڈ اور اسپتال کی جانب سے جاری کردہ پیدائشی دستاویز یا موصولہ پیغام کی مدد سے بچے کا برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔

نادرا حکام کے مطابق پیدائش کی رجسٹریشن کے بعد بچے کا چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جسے عام طور پر ب فارم کہا جاتا ہے، بنوانا ضروری ہے۔ تین سال سے کم عمر بچوں کے لیے نادرا سینٹر آنے کی ضرورت نہیں ہوگی، جبکہ زیادہ عمر کے بچوں کے لیے تصویر اور بعد ازاں بائیومیٹرک معلومات بھی درکار ہوں گی۔

 یہ بھی پڑھیں :شناختی کارڈزاور ب فارم کی فیسوں میں اضافے کا پلان ،نادرا نے صارفین کی طرف سے انتباہ جاری

ترجمان نادرا نے واضح کیا کہ ب فارم کو مختلف عمر کے مراحل کے مطابق تقسیم کیا گیا ہے۔ تین سال تک کے بچوں کے سرٹیفکیٹ کی معیاد تین سال ہوگی، دس سال کی عمر کے بعد بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی، جبکہ اٹھارہ سال کی عمر مکمل ہونے پر قومی شناختی کارڈ بنوانا ضروری ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ اور پنجاب کے شہری پاک آئیڈینٹیٹی ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے بھی رجسٹریشن کی درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں بھی اس سہولت کی توسیع کا عمل جاری ہے۔ نادرا نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ب فارم اور رجسٹریشن کے طریقہ کار سے متعلق مکمل معلومات کے لیے نادرا کے رہنمائی مواد سے استفادہ کریں۔

editor

Related Articles