کویت نے 15 سالہ ویزا پلان متعارف کروا دیا، عرب کے امیر ترین ملک جانے والوں کی چاندی

کویت نے 15 سالہ ویزا پلان متعارف کروا دیا، عرب کے امیر ترین ملک جانے والوں کی چاندی

خلیجی ملک کویت نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور ملکی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک انقلابی اور طویل المدتی اقامتی نظام متعارف کروا دیا ہے۔

اس نئے اور تاریخی نظام کے تحت کویت میں بھاری سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو 15 سال تک کا رہائشی پرمٹ (اقامہ) فراہم کیا جا سکے گا۔

کویت حکومت کی اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑے پیمانے پر بڑھانا اور ساتھ ہی سیکیورٹی و اہلیت کے معیار کو مزید سخت، شفاف اور منظم بنانا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق یہ نیا اقامتی نظام کابینہ کی قرارداد نمبر 651 برائے 2026 کے تحت باقاعدہ نافذ العمل کر دیا گیا ہے، جس کی تمام تر تفصیلی شرائط اور ضوابط کویت کے سرکاری اخبار ’کویت الیوم‘ میں شائع کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:قطر اور کویت کی امریکہ ایران مذاکرات میں پیشرفت کی حمایت، پرامن حل کی امید کا اظہار

اس نئے قانونی فریم ورک میں سرمایہ کاروں کی مالی حیثیت، ان کی کاروباری سرگرمیوں کی نوعیت اور تمام قانونی تقاضوں کی مکمل جانچ پڑتال سے متعلق انتہائی واضح اور سخت شرائط شامل کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام سے بچا جا سکے۔

اس نئی پالیسی کے تحت نہ صرف سرمایہ کاری کمپنیوں کے مالکان اور بڑے کاروباری شراکت داروں (پارٹنرز) کو یہ سہولت ملے گی، بلکہ کمپنیوں کے سینیئر ایگزیکٹوز اور ان کے قریبی اہل خانہ (بیوی اور بچوں) کو بھی یہ طویل المدتی رہائشی سہولت فراہم کی جا سکے گی۔

تاہم اس اقامتی اجازت کو حاصل کرنے کے لیے کویتی حکومت نے ایک انتہائی سخت مالی معیار مقرر کیا ہے۔ اس قانون کے تحت کمپنیوں کے لیے کم از کم سرمایہ 1 ملین کویتی دینار اور کویت کے اندر کم از کم سرمایہ کاری 5 ملین کویتی دینار (جو کہ تقریباً 1.63 کروڑ امریکی ڈالر بنتی ہے) ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی، سرمایہ کاروں کے لیے کویت میں فعال کاروباری سرگرمی کا ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کرنا بھی ضروری ہوگا۔ اس اسکیم کے تحت تمام درخواستیں ‘کویت ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پروموشن اتھارٹی’ کے ذریعے جمع کی جائیں گی، تاہم درخواست کو قبول یا مسترد کرنے کا حتمی فیصلہ وزارتِ داخلہ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

اقامتی ویزا، اقامتی قوانین

کویت روایتی طور پر خلیج کے ان ممالک میں شمار ہوتا رہا ہے جہاں غیر ملکیوں کے لیے ویزا اور اقامتی قوانین دیگر ہمسایہ ممالک (جیسے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب) کے مقابلے میں کافی سخت رہے ہیں۔ ماضی میں کویت کا اقامتی نظام زیادہ تر قلیل المدتی (1 سے 5 سال) ہوا کرتا تھا، جس کی وجہ سے بڑے عالمی سرمایہ کار وہاں طویل المدتی منصوبوں میں پیسہ لگانے سے کتراتے تھے۔

مزید پڑھیں:خلیج میں سنسنی خیز موڑ، ایرانی پاسداران انقلاب کا کویت ایئرپورٹ پر حملوں سے لاتعلقی کا اعلان

تاہم سال 2026 میں کابینہ کی قرارداد نمبر 651 کے تحت اس 15 سالہ ویزا کا اجرا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کویت اب اپنی معیشت کا انحصار صرف تیل کی فروخت پر ختم کرنا چاہتا ہے۔ دنیا بھر میں جب سے ’اسمارٹ ویزا‘ اور ’گولڈن ویزا‘ کے رجحانات بڑھے ہیں، کویت پر بھی یہ معاشی دباؤ تھا کہ وہ اپنے قوانین کو نرم کرے۔

 حکومت نے ’کویت ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پروموشن اتھارٹی‘ کو اس لیے مرکزی کردار دیا ہے تاکہ بیوروکریسی کی رکاوٹوں کو ختم کر کے سرمایہ کاروں کو ‘ون ونڈو’ (ایک ہی جگہ تمام سہولیات) آپریشنز فراہم کیے جا سکیں، جبکہ وزارتِ داخلہ کا حتمی کردار ملک کے امن و امان اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے برقرار رکھا گیا ہے۔

بین الاقوامی سرمائے کا حصول اور معاشی تنوع

 کویت طویل عرصے سے ’وژن 2035‘ کے تحت اپنی معیشت کو تیل کے علاوہ دیگر شعبوں (جیسے ٹیکنالوجی، رئیل اسٹیٹ اور فنانس) پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

5 ملین کویتی دینار (1.63 کروڑ امریکی ڈالر) کی کم از کم سرمایہ کاری کی شرط یہ ظاہر کرتی ہے کہ کویت چھوٹے دکانداروں یا عام تاجروں کے بجائے دنیا کے ’بڑے تاجروں‘ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ہدف بنا رہا ہے۔ اس سے ملک میں بھاری زرِ مبادلہ آئے گا جس سے کویتی دینار کی پوزیشن عالمی مارکیٹ میں مزید مضبوط ہوگی۔

Related Articles