فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایران کی شرکت سے متعلق غیر یقینی صورتحال بالآخر ختم ہو گئی ہے، کیونکہ امریکا نے ایرانی قومی فٹبال ٹیم کو ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے ویزے جاری کر دیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے باعث ایرانی ٹیم کے سفری دستاویزات ایک اہم مسئلہ بن گئے تھے، تاہم اب ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی قومی فٹبال ٹیم کے ارکان کے لیے ضروری ویزے جاری کر دیے گئے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد ایران کی ٹیم شیڈول کے مطابق اپنی ورلڈ کپ مہم میں حصہ لے سکے گی۔
اس سے قبل میکسیکو میں تعینات ایران کے سفیر ابوالفضل پسندیدہ نے کہا تھا کہ قومی اسکواڈ کو تاحال امریکی ویزے موصول نہیں ہوئے جس کے باعث ٹیم کی شرکت کے حوالے سے خدشات پیدا ہو رہے تھے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے راتوں رات تمام ضروری سفری دستاویزات جاری کیے جانے کے بعد یہ معاملہ حل ہو گیا۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایران گروپ جی میں شامل ہے اور اپنا پہلا میچ آغاز 15 جون کو نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس میں کرے گا۔ ایرانی ٹیم کا دوسرا گروپ میچ بیلجیم کے خلاف بھی لاس اینجلس میں کھیلا جائے گا، جبکہ گروپ مرحلے کا آخری مقابلہ مصر کے خلاف سیئٹل میں شیڈول ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ویزوں کا معاملہ خاص اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ بعض حلقوں کو خدشہ تھا کہ سفارتی تنازعات کھیلوں کے اس عالمی ایونٹ کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، تاہم ویزوں کے اجرا کے بعد یہ خدشات بڑی حد تک ختم ہو گئے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر کر رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر کے شائقین کی نظریں اس میگا ایونٹ پر مرکوز ہیں۔ ایرانی ٹیم کے ویزوں کے اجرا کو کھیل اور سفارت کاری کے تعلق کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔