وفاقی بجٹ کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور ملک کے معاشی حلقوں میں امید کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات اور ماہرینِ معیشت کے مطابق اس نئے بجٹ کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ میں سیمنٹ اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے شیئرز کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
حکومت نے معاشی پہیے کو تیز کرنے کے لیے ان مخصوص صنعتوں پر ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی اور خصوصی مراعات دینے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے ایک انتہائی متوازن حکمتِ عملی کے تحت یہ بجٹ تیار کیا ہے، جس کا مقصد ایک طرف ملک میں اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے اور دوسری طرف بین الاقوامی مالیاتی ادارے ’آئی ایم ایف‘کے ساتھ کیے گئے سخت معاشی وعدوں کے توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ ان دونوں اہداف کو بیک وقت پورا کرتے ہوئے، مختلف اہم صنعتی شعبوں کو بجٹ میں بڑا معاشی ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرتے ہوئے معاشی ترقی کے حوالے سے اہم ترین اہداف کا خاکہ پیش کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ حکومت کا ہدف آئندہ مالی سال میں 4 فیصد کی مستحکم اقتصادی ترقی حاصل کرنا ہے، جبکہ موجودہ سال میں ملکی معیشت کی شرحِ نمو 3.7 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو کہ گزشتہ 4 سال کی بلند ترین سطح ہے۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ سیمنٹ اور ٹیکسٹائل جیسے بڑے پیداواری شعبوں کو دی گئی ان مراعات سے جہاں ان کی اپنی پیداواری صلاحیت اور منافع میں نمایاں اضافہ ہوگا، وہاں اس کے دور رس مثبت اثرات مجموعی طور پر اسٹاک مارکیٹ پر بھی مرتب ہوں گے۔
پاکستان کی معیشت گزشتہ چند سالوں سے شدید دباؤ کا شکار رہی ہے، جس میں بلند شرحِ سود، مہنگی بجلی اور آئی ایم ایف کے پروگرام کی سخت شرائط شامل ہیں۔
ٹیکسٹائل سیکٹر پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی (ایکسپورٹ) شعبہ ہے جو ملک کے لیے زرِ مبادلہ کماتا ہے، جبکہ سیمنٹ سیکٹر تعمیراتی صنعت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔
گزشتہ 4 سالوں کے دوران معاشی شرحِ نمو میں مسلسل کمی دیکھی گئی تھی، لیکن موجودہ سال میں 3.7 فیصد کی بحالی اور اگلے سال کے لیے 4 فیصد کا ہدف یہ ظاہر کرتا ہے کہ معیشت اب استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ٹیکس نیٹ (دائرہ کار) کو تو بڑھایا ہے، لیکن مقامی صنعت کو تحفظ دینے کے لیے ٹیکسٹائل اور سیمنٹ جیسے بڑے شعبوں کو ٹیکسز میں ریلیف دیا ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں۔
ٹیکسٹائل سیکٹر کو مراعات اور برآمدات میں اضافہ
ٹیکسٹائل انڈسٹری پر ٹیکس کی کمی اور مراعات سے پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔ اس اقدام سے پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقتی قیمتوں پر دستیاب ہوں گی، جس سے برآمدات بڑھیں گی اور ملک کا تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کار اسی لیے ٹیکسٹائل شیئرز کی خریداری میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔
سیمنٹ سیکٹر اور ترقیاتی بجٹ کا باہمی ربط
حکومت جب معاشی ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر کرتی ہے، تو اسے ترقیاتی کاموں (سڑکوں، ڈیموں اور ہاؤسنگ) پر خرچ بڑھانا پڑتا ہے۔ سیمنٹ انڈسٹری پر ٹیکس ریلیف اور ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے سیمنٹ کی مقامی مانگ میں زبردست اضافہ متوقع ہے۔ یہ شعبہ اسٹاک مارکیٹ کا ایک بڑا محرک (انڈیکس ہیوی ویٹ) ہے، اس لیے اس کا منافع پوری مارکیٹ کو اوپر لے جائے گا۔