رابن ہُڈ کے درخت کا اختتام، تاریخی ورثہ خطرے میں

رابن ہُڈ کے درخت کا اختتام، تاریخی ورثہ خطرے میں

مشہور لوک داستانی کردار رابن ہُڈ سے منسوب ایک قدیم اور تاریخی بلوط کا درخت مبینہ طور پر انسانی سرگرمیوں کے باعث اپنی زندگی کے آخری مرحلے تک پہنچ گیا ہے۔

برطانیہ کے شیرووڈ فاریسٹ میں موجود 1200 سال پرانا ’’میجر اوک‘‘درخت اس وقت مردہ قرار دیا گیا جب اس موسم بہار میں اس پر نئی پتیاں نمودار نہ ہوئیں۔

رائل سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف برڈز کے مطابق گزشتہ دو صدیوں کے دوران لاکھوں سیاح اس درخت کو دیکھنے کے لیے آئے، جس کے باعث درخت کے اردگرد کی مٹی سخت اور دَب گئی۔ نتیجتاً بارش کا پانی مناسب طریقے سے جڑوں تک نہ پہنچ سکا اور درخت آہستہ آہستہ کمزور ہوتا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:چڑیا گھر میں خوفناک واقعہ، 3 سالہ بچہ مگرمچھوں کے حوالے

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی درخت کئی برسوں سے مختلف خطرات کا سامنا کر رہا تھا۔ ماضی میں بھی کئی بار اس کے مرنے کی افواہیں سامنے آئیں، تاہم تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ درخت اب بھی زندہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں :سڑک پر عوامی عدالت، بھارتی سیاستدان کو جوتوں کا ہار پہنا دیاگیا

لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے۔ ادارے کی نمائندہ ہولی ڈریک نے کہا کہ درخت کا اس سال نئی پتیاں نہ نکالنا انتہائی افسوسناک خبر ہے۔

روایت کے مطابق یہی عظیم درخت رابن ہُڈ کی پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رابن ہُڈ تیرہویں صدی کا ایک مشہور باغی تھا جو امیروں سے مال لے کر غریبوں میں تقسیم کرتا تھا اور ناٹنگھم کے شیرف سے بچنے کے لیے شیرووڈ کے جنگل میں چھپتا تھا۔میجر اوک صرف ایک درخت نہیں بلکہ برطانوی تاریخ، لوک کہانیوں اور قدرتی ورثے کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا تھا۔

editor

Related Articles