ایرانی ریال کب تک خریدیں تو راتوں رات ٹرپل منافع ہو سکتا ہے ؟بڑی خبر آگئی

ایرانی ریال کب تک خریدیں تو راتوں رات ٹرپل منافع ہو سکتا ہے ؟بڑی خبر آگئی

ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے اور ایران پر سے امریکی معاشی پابندیاں ختم ہونے کی توقعات کے باعث ایرانی ریال کی قدر میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے بعد سرمایہ کار منافع کی امید میں ایرانی کرنسی کی خریداری کر رہے ہیں۔

چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ملک بوستان نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی ریال کی قدر میں اضافے کی بنیادی وجہ پابندیوں کے خاتمے سے متعلق مثبت توقعات ہیں۔

ملک بوستان نے کہا کہ 2016 میں جب سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایران پر سے جزوی پابندیاں ہٹائی گئی تھیں تو ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت 10 سے 12 ہزار پاکستانی روپے تھی جو بعد ازاں بڑھ کر تقریباً 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی تھی۔ ان کے مطابق اگر 2018 میں دوبارہ پابندیاں عائد نہ ہوتیں تو اس کی قیمت ایک لاکھ روپے تک بھی جا سکتی تھی۔

ملک بوستان کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی سے قبل ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت 10 سے 13 ہزار پاکستانی روپے تھی، تاہم حالات خراب ہونے پر یہ کم ہو کر تقریباً دو ہزار روپے رہ گئی۔ اب ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کی پیش رفت اور مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے بعد اس کی قیمت دوبارہ تقریباً چار ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستانیوں نے پانچ روز میں کتنے ایرانی ریال خرید لئے؟حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ اگر ایران پر سے پابندیاں مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہیں اور منجمد اثاثے بحال ہو جاتے ہیں تو ایرانی ریال کی قیمت دوبارہ 60 ہزار سے ایک لاکھ پاکستانی روپے تک پہنچ سکتی ہے، اسی امید پر خاص طور پر چھوٹے سرمایہ کار خریداری کر رہے ہیں۔

تاہم ملک بوستان نے خبردار کیا کہ اس سرمایہ کاری میں خطرات بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق اگر معاہدہ ناکام ہو گیا یا دوبارہ جنگ چھڑ گئی تو ایرانی ریال کی قدر دوبارہ گر کر دو ہزار روپے تک آ سکتی ہے، جبکہ کامیاب معاہدے کی صورت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

انہوں نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ طویل مدتی کے بجائے مختصر مدت کی سرمایہ کاری کریں اور محدود سرمایہ لگائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قیمت پر خریداری کرکے اگر ریال کی قیمت چھ سے آٹھ ہزار روپے تک پہنچ جائے تو فروخت کر کے مناسب منافع حاصل کیا جا سکتا ہے تاہم زیادہ منافع کی امید میں طویل انتظار یا بڑی سرمایہ کاری سے گریز کرنا چاہیے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایرانی کرنسی کی اونچی اڑان جاری،خریدار کروڑوں کمانے لگے

ملک بوستان نے مزید کہا کہ اگر ایران پر سے پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں تو پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس سے پاکستان کے توانائی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ ان کے مطابق ایران میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے پاکستان کے لیے ایک بڑی اور قریبی منڈی بھی دستیاب ہو سکتی ہے، جہاں پاکستانی افرادی قوت کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

editor

Related Articles