حکومت آج پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لے گی جس کے بعد نئی قیمتوں کا اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی کمی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے تاہم حتمی فیصلہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد ہی کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں درآمدی لاگت ایکسچینج ریٹ اور دیگر متعلقہ عوامل کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات پر مشتمل سمری وزارتِ خزانہ کو ارسال کرے گی۔ وزارتِ خزانہ سمری کا جائزہ لینے کے بعد اسے منظوری کے لیے وزیراعظم کو بھجوائے گی جن کی حتمی منظوری کے بعد نئی قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں نمایاں طور پر کم ہوئی ہیں اور فی بیرل نرخ تقریباً گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی متوقع ہے تاہم کمی کی حتمی شرح کا انحصار اوگرا کے حساب کتاب حکومتی مالیاتی پالیسی اور وزیراعظم کے فیصلے پر ہوگا۔
دوسری جانب قیمتوں میں ممکنہ کمی سے قبل حکومت اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے درمیان اختلافات بھی نمایاں ہو گئے ہیں۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز نے گزشتہ ہفتہ کی قیمتوں میں کمی پر بھی اعتراضات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ قیمتوں کے تعین میں عالمی پریمیم اور دیگر درآمدی اخراجات کا درست حساب نہیں لگایا گیا جس کے باعث صنعت کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
آئل انڈسٹری کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ طریقہ کار برقرار رہا تو کمپنیوں کی مالی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کا تعین مقررہ فارمولے اور عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے لیے مثبت پیش رفت ہے کیونکہ اس سے نہ صرف عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف مل سکتا ہے بلکہ مہنگائی میں کمی اور ٹرانسپورٹ و پیداواری لاگت کم ہونے کے امکانات بھی روشن ہوتے ہیں۔
اب تمام نظریں حکومت کے فیصلے پر مرکوز ہیں کہ آیا عالمی منڈی میں آنے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک منتقل کیا جاتا ہے یا آئل انڈسٹری کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں میں کمی کی شرح محدود رکھی جاتی ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم کا فیصلہ ہی حتمی ہوگا جس کا اعلان آج متوقع ہے۔