55 دلت صفائی کارکنوں کی ہلاکتوں نے بھارت میں ذات پات پر مبنی استحصال کو بے نقاب کر دیا

55 دلت صفائی کارکنوں کی ہلاکتوں نے بھارت میں ذات پات پر مبنی استحصال کو بے نقاب کر دیا، جبکہ درجنوں دلت صفائی ورکرز کی اموات نے بھارت کا گھناؤنا چہرہ دنیا کے سامنے آشکار کر دیا۔ بھارت میں صرف مسلمان اور عیسائی ہی نہیں بلکہ دلت اور آدیواسی برادریاں بھی شدید استحصال کا شکار ہیں۔ فروری سے جون 2026 کے دوران سیوریج لائنوں اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے دوران 55 سے زائد دلت صفائی کارکن جان کی بازی ہار گئے، حالانکہ دستی صفائی پر قانوناً پابندی عائد ہے اور بھارتی سپریم کورٹ بھی اس عمل کے خاتمے کے واضح احکامات جاری کر چکی ہے۔

بھارت میں دلت اور آدیواسی برادریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم دلت آدیواسی شکتی ادھیکار منچ (DASAM) نے اپنی رپورٹ میں ذات پات پر مبنی امتیاز، ادارہ جاتی غفلت، قانون کے کمزور نفاذ اور ریاستی ناکامی کو ان ہلاکتوں کی بنیادی وجوہات قرار دیتے ہوئے بھارت میں دلت برادری کو درپیش استحصال کی سنگین صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔

  بھارتی سپریم کورٹ کے احکامات بھی دلت کارکنوں کی جانیں نہ بچا سکے

تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ فروری سے جون 2026 کے دوران ملک بھر میں سیوریج لائنوں، سیپٹک ٹینکوں اور دیگر محدود صفائی والے مقامات کی صفائی کے دوران 55 سے زائد صفائی کارکن جان کی بازی ہار گئے۔ تنظیم کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے جنوری 2025 میں دہلی، ممبئی، چنئی، کولکاتا، بنگلورو اور حیدرآباد میں دستی طور پر سیوریج اور مین ہولز کی صفائی ختم کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس کے باوجود یہ اموات سامنے آئیں، جو عدالتی احکامات پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ریاستی غفلت اور ٹھیکیداروں کے استحصال نے درجنوں جانیں نگل لیں

ڈی اے ایس اے ایم کے مطابق یہ اموات ذات پات پر مبنی تشدد، ٹھیکیداروں کے استحصال، ادارہ جاتی غفلت، قانون کے کمزور نفاذ اور ریاستی نظام کی ناکامی کی تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں، حالانکہ قانون کے تحت دستی صفائی پر پابندی عائد ہے۔

پانچ ماہ میں اموات کا خوفناک سلسلہ

رپورٹ کے مطابق پانچ ماہ کے دوران جون میں سب سے زیادہ 18 اموات رپورٹ ہوئیں، جبکہ مارچ میں 20، اپریل میں 10، مئی میں 6 اور فروری میں ایک صفائی کارکن جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

سرکاری دعوے بے نقاب، اموات کو حادثات قرار دینے کا الزام

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اموات ان سرکاری دعوؤں سے متصادم ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ بھارت سے دستی صفائی کا عمل ختم ہو چکا ہے۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ متعدد واقعات کو احتساب سے بچنے کے لیے “کام کے دوران حادثہ”، “زہریلی گیس سے ہلاکت” یا “صنعتی حادثہ” قرار دے کر اصل حقائق چھپائے جاتے ہیں۔

دہلی سے سورت تک دلت صفائی کارکن موت کے منہ میں دھکیلے جاتے رہے

رپورٹ کے مطابق جون کے دوران سورت میں چار، بنگلورو میں چار، لدھیانہ میں تین، فرید آباد میں تین، دہلی کے منڈکا صنعتی علاقے میں تین جبکہ لکھنؤ میں ایک صفائی کارکن ہلاک ہوا۔

دلت صفائی کارکن بنیادی حفاظتی سہولیات سے بھی محروم

تنظیم کا کہنا ہے کہ صفائی کارکنوں کو معمول کے مطابق ایسے خطرناک اور بند مقامات پر اتارا جاتا ہے جہاں آکسیجن سپورٹ، گیس ڈیٹیکٹر، سانس لینے کے آلات، حفاظتی لباس، سیفٹی ہارنس اور ہنگامی ریسکیو نظام جیسی بنیادی حفاظتی سہولیات بھی موجود نہیں ہوتیں۔

دہلی میں سب سے زیادہ اموات نے نظام پر سوالات اٹھا دیے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون کے دوران دہلی سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل رہا، جہاں صرف اسی ماہ سیوریج اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے دوران نو سے زائد اموات رپورٹ ہوئیں۔

منڈکا سانحہ، ساتھیوں کو بچانے کی کوشش بھی جان نہ بچا سکی

ڈی اے ایس اے ایم نے 26 جون کو منڈکا میں پیش آنے والے حادثے کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ تین صفائی کارکنوں کو بغیر کسی حفاظتی سامان کے سیپٹک ٹینک میں اترنے پر مجبور کیا گیا، جہاں وہ زہریلی فضا کے باعث ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

دلت کارکنوں کی اموات کو ذات پات پر مبنی ساختی تشدد قرار

تنظیم نے ان اموات کو “ذات پات پر مبنی ساختی تشدد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 14، 17، 21 اور 23 کی خلاف ورزی ہیں۔

ہر ہلاکت پر ایف آئی آر، معاوضہ اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

تنظیم نے مطالبہ کیا کہ دستی صفائی سے متعلق قانون پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے، ہر ہلاکت کے واقعے میں ایف آئی آر درج کی جائے، متاثرہ خاندانوں کو 30 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے، سیوریج کی صفائی مکمل طور پر مشینی بنائی جائے، ذمہ دار ٹھیکیداروں اور سرکاری حکام کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے اور ان اموات کو محض غفلت یا حادثات قرار دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

قانون موجود مگر دلت آج بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرنے پر مجبور

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستی صفائی پر 2013 کے قانون کے تحت پابندی عائد ہے اور سپریم کورٹ بھی متعدد بار اس حوالے سے ہدایات جاری کر چکی ہے، تاہم کمزور عملدرآمد، مشینی نظام کی کمی، ذات پات پر مبنی امتیاز، اموات کی کم رپورٹنگ اور ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ خطرناک عمل بدستور جاری ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق بحالی کے اقدامات بھی ناکافی ہیں، جس کے باعث بہت سے دلت صفائی کارکن آج بھی انتہائی خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

editor

Related Articles