بسنت کے موقع پر موٹرسائیکل سواروں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاہور سٹی ٹریفک پولیس نے خصوصی پلان مرتب کرلیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت شہر کے 23 لاکھ بائیکرز کو سیفٹی راڈز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ محفوظ بسنت کیلئے مختلف مراحل میں آگاہی اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔
بائیکرز کیلئے سیفٹی راڈز
چیف ٹریفک آفیسر لاہور عبدالرحیم شیرازی کے مطابق بسنت سے قبل شہر کے 23 لاکھ بائیکرز کو سیفٹی راڈز فراہم کیے جائیں گے۔
سی ٹی او لاہور کے مطابق محفوظ بسنت کیلئے تقریباً 80 فیصد بائیکرز کو سیفٹی راڈز فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ بسنت کے موقع پر 10 لاکھ بائیکرز کو سیفٹی راڈز فراہم کیے گئے تھے۔
پلان کے مطابق سیفٹی راڈز کی تنصیب کیلئے شہر کے اہم مقامات پر 100 کیمپس قائم کیے جائیں گے ، یکم نومبر سے شہریوں میں آگاہی مہم شروع کی جائے گی، جبکہ یکم جنوری 2027 سے سیفٹی راڈز کی تنصیب کا عمل شروع ہوگا۔
چیف ٹریفک آفیسر کے مطابق ڈبل سواری کی صورت میں دونوں سواروں کیلئے ہیلمٹ پہننا لازمی ہوگا، بسنت کے دوران ڈکلیئر کیے گئے ریڈ زونز میں بائیکرز اور چنگچی رکشوں کا داخلہ بھی بند رہے گا۔
ٹریفک پولیس کے مطابق شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بغیر سیفٹی راڈز کے بائیکرز کا داخلہ بھی روکا جائے گا۔
محفوظ بسنت کیلئے تین مرحلوں میں اقدامات
سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ محفوظ بسنت کیلئے پلان پر تین مراحل میں عملدرآمد کیا جائے گا ، پہلے مرحلے میں آگاہی مہم، دوسرے مرحلے میں عملدرآمد اور تیسرے مرحلے میں انفورسمنٹ کی جائے گی۔
لاہور ٹریفک پولیس کے مطابق خصوصی پلان کا مقصد بسنت کے دوران شہریوں، بالخصوص موٹرسائیکل سواروں کی حفاظت کیلئے پہلے سے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہے ، اس کیلئے آگاہی، سیفٹی راڈز کی تنصیب اور قوانین پر عملدرآمد کے مراحل طے کیے گئے ہیں۔
یوں بسنت سے قبل لاہور میں لاکھوں بائیکرز تک حفاظتی اقدامات پہنچانے اور شہر میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔