لنکڈ اِن کی غیر معیاری تحریروں سے نجات کے لیے نیا کروم ایکسٹینشن متعارف

لنکڈ اِن کی غیر معیاری تحریروں سے نجات کے لیے نیا کروم ایکسٹینشن متعارف

لنکڈ اِن پر موجود کم معیار اور غیر ضروری تحریروں کی نشاندہی کے لیے ایک نیا   کروم ایکسٹینشن سلوپ موپ متعارف کرا دیا گیا ہے، جو مصنوعی ذہانت کے ماڈل جیف کی مدد سے ایسی پوسٹس کو شناخت کرکے صارف کو خبردار کرتا ہے۔

سلوپ موپ کو اے آئی ماہر، مصنف اور بزنس کنسلٹنٹ ٹام فریزیئر نے متعارف کرایا ہے۔ یہ ایکسٹینشن مفت ہے، اسے استعمال کرنے کے لیے سائن اپ کی ضرورت نہیں اور اس کا اوپن سورس کوڈ گیٹ ہب پر بھی دستیاب ہے۔

اےآئی سے لکھی پوسٹ یا انسانی تحریر، اصل توجہ معیار پر

 سلوپ موپ روایتی اے آئی ڈیٹیکٹرز کی طرح صرف یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتا کہ کوئی پوسٹ مصنوعی ذہانت سے لکھی گئی ہے یا انسان نے۔ اس کے بجائے یہ تحریر میں موجود ایسے انداز اور جملوں کی نشاندہی کرتا ہے جو کم معیار یا غیر مفید مواد کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی خراب پوسٹ انسان نے لکھی ہو تب بھی اسے نشان زد کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فون فریز اور پھر ری اسٹارٹ، آئی فون 18 پرو میں بڑا بگ سامنے آگیا

سلوپ موپ پوسٹ میں کیا تلاش کرتا ہے؟

ایکسٹینشن تحریروں کا جائزہ لینے کے لیے 9 مختلف انڈیکیٹرز استعمال کرتا ہے۔ ان میں غیر ضروری جوش و خروش، لوگوں سے زبردستی ردعمل لینے کی کوشش، کھوکھلی تعریفیں، حد سے زیادہ بناوٹی سبق، مشکل یا پھول دار زبان، غیر فطری انداز تحریر اور ایسی پوسٹس شامل ہیں جو صارف کو صرف مزید پڑھنے کے لیے کلک کرنے یا پوسٹ کھولنے پر مجبور کریں۔

اس کے علاوہ سلوپ موپ یہ بھی دیکھتا ہے کہ آیا تحریر کسی حقیقی شخص کے مخصوص انداز سے لکھی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور کیا اس میں قاری کے لیے واقعی کوئی مفید بات موجود ہے۔

پوسٹ چھپ بھی سکتی ہے

اگر کسی پوسٹ کا سلوپ موپ اسکور مقررہ حد سے بڑھ جائے تو صارف اسے اپنے لنکڈ اِن فیڈ میں نشان زد یا چھپا سکتا ہے۔تاہم یہ پوسٹس لنکڈ اِن سے ڈیلیٹ نہیں ہوتیں اور صارف انہیں لنکڈ اِن  کے موجودہ’سیمز لائک اےآئی سلوپ‘ آپشن کے ذریعے رپورٹ بھی کر سکتا ہے۔

جیف کو آزمانے کیلئے بنایا گیا منصوبہ

ٹام فریزیئر کے مطابق سلوپ موپ  بنانے کا ایک اہم مقصد جیف نامی اےآئی ماڈل کو آزمانا بھی تھا۔ جیف  کو ٹائپ سیف   نے تیار کیا ہے اور یہ عام چیٹ بوٹ کے بجائے دوسرے سافٹ ویئر سسٹمز کے لیے فیصلے کرنے کے مقصد سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ فریزیئر نے سلوپ موپ کو اوپن سورس رکھا ہے تاکہ ڈویلپرز اس کے کوڈ کا جائزہ لے سکیں اور ،جیف کے ساتھ خود بھی تجربات کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:اے آئی ایجنٹ نے اجازت کے بغیر سرکاری انفراسٹرکچر تک رسائی حاصل کرلی

روزانہ 250 پوسٹس تک مفت تجزیہ

سلوپ موپ فی الحال فریزیئر کے اپنے جیف اکاؤنٹ اور اے پی آئی کی کے ذریعے کام کرتا ہے۔ اخراجات کو محدود رکھنے کے لیے ہر انسٹالیشن پر روزانہ 250 لنکڈ ان پوسٹس کے تجزیے کی حد مقرر کی گئی ہے۔

فریزیئر کے مطابق ابتدائی استعمال میں فی صارف روزانہ تقریباً 0.005 ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ اگر ایکسٹینشن بہت زیادہ مقبول ہوا تو وہ مفت سروس کے مستقبل پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔

فی الحال فریزیئر سلوپ موپ کے ذریعے جیف کے مختلف پیرامیٹرزکو آزمانے اور ایک ڈیٹا سیٹ تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ اگر صارفین کی دلچسپی برقرار رہی اور اخراجات قابل انتظام رہے تو مستقبل میں اس ٹول کو دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک بھی وسعت دی جا سکتی ہے۔

editor

Related Articles