امریکی مڈٹرم الیکشن، ٹرمپ ہارنے لگے، ڈیموکریٹس کو 12 پوائنٹس کی برتری، 62 فیصد ووٹرز صدر کی پالیسیوں سے نالان

امریکی مڈٹرم الیکشن، ٹرمپ ہارنے لگے، ڈیموکریٹس کو 12 پوائنٹس کی برتری، 62 فیصد ووٹرز صدر کی پالیسیوں سے نالان

امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل جاری ہونے والی تازہ ترین سروے رپورٹس میں ڈیموکریٹس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی پر 12 پوائنٹس کی نمایاں برتری حاصل کر لی ہے، جبکہ ووٹرز کی اکثریت نے صدر کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے۔

کوئنی پیاک یونیورسٹی کے نئے سروے کے مطابق امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 62 فیصد ووٹرز صدر کی معاشی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں، جبکہ اتنی ہی تعداد یعنی 62 فیصد نے ان کی خارجہ پالیسی سے بھی اختلاف کیا ہے۔

رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 51 فیصد افراد ڈیموکریٹس کی حمائت کر رہے ہیں جبکہ ریپبلکنز کے حامیوں کی شرح صرف 39 فیصد رہ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نے شرائط امریکا کو دیدیں مگر ڈونلڈ ٹرمپ فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ، محسن رضائی

تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان انتخابی سروے رپورٹس کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اپنی حکومت کی معاشی کارکردگی کو بہترین قرار دیا ہے۔

انتخابات کو ریفرنڈم بنانے کی حکمتِ عملی اور الٹا اثر

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کو اپنی صدارت پر ایک ریفرنڈم بنانے کی کوشش کی تھی، لیکن اس حکمتِ عملی کا الٹا اثر سامنے آ رہا ہے۔

این پی آر، پی بی ایس نیوز اور مارسٹ انسٹی ٹیوٹ کے تازہ ترین سرویز ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیموکریٹک کانگریسی امیدواروں کو ریپبلکنز پر واضح اور نمایاں برتری حاصل ہے۔

مجموعی طور پر 53 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات آج ہوں تو وہ ڈیموکریٹک امیدواروں کو ووٹ دیں گے، جبکہ 41 فیصد ریپبلکنز کے حق میں ہیں۔ سب سے اہم کردار ادا کرنے والے آزاد ووٹرز میں بھی ڈیموکریٹس کو 25 فیصد پوائنٹس کا بڑا مارجن حاصل ہے۔

ووٹرز کی بے چینی اور ڈیموکریٹس کا تحرک

مارِسٹ انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین کے ڈائریکٹر لی میرِنکوف کے مطابق اس وقت ڈیموکریٹس انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ووٹرز میں بہت زیادہ بے چینی ہے اور بہت سے لوگ حالات کو تبدیل کرنے کے حق میں جذبات رکھتے ہیں۔‘

سروے کے مطابق 45 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز اور 54 فیصد آزاد ووٹرز کا کہنا ہے کہ ان کا ووٹ بنیادی طور پر صدر ٹرمپ کی مخالفت کے اظہار کے لیے ہو گا۔

ڈیموکریٹک ووٹرز میں تحرک کا عالم یہ ہے کہ 10 میں سے 8 یعنی 80 فیصد ووٹرز ٹرمپ کے خلاف ووٹ دینے کے لیے تیار ہیں، جبکہ صرف 24 فیصد مجموعی ووٹرز اور 12 فیصد آزاد ووٹرز صدر کی حمایت کے لیے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کریں گے۔

دوسری جانب مڈٹرم الیکشن سے قبل ایک اور اہم پیشرفت میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بھی امریکی ووٹرز کے نام ایک کھلا خط سامنے آیا ہے۔

مزید پڑھیں:علم نہیں ایران جنگ مڈٹرم الیکشنز تک ختم ہوگی یا نہیں ، جے ڈی وینس

امریکی سیاسی نظام میں وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشن) صدارتی مدت کے دو سال مکمل ہونے پر منعقد ہوتے ہیں، جن میں ایوانِ نمائندگان کی تمام نشستوں اور سینیٹ کی ایک تہائی نشستوں پر مقابلہ ہوتا ہے۔

تاریخی طور پر ان انتخابات کو ایوانِ صدر میں بیٹھے حکمران صدر کی کارکردگی اور پالیسیوں پر عوام کی رائے جانچنے کا سب سے بڑا پیمانہ مانا جاتا ہے۔

ماضی میں بھی متعدد وزرائے اعظم اور صدور کو اپنی مدتِ صدارت کے وسط میں عوامی غصے اور حزبِ اختلاف کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

امریکی سیاسی صورتحال کا تجزیاتی پہلو

سروے کے یہ نتائج امریکہ کی موجودہ سیاسی فضا میں ایک بڑی تبدیلی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ معاشی ناہمواری اور خارجہ پالیسی پر بڑھते ہوئے اعتراضات نے عام ووٹر اور بالخصوص آزاد ووٹرز کو شدید متاثر کیا ہے۔

جب کسی بھی الیکشن میں آزاد ووٹرز 25 فیصد پوائنٹس کے بھاری فرق سے کسی ایک جماعت کی طرف جھک جائیں، تو انتخابات کے نتائج کا رخ یکسر بدل جاتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے الیکشن کو ذاتی صدارت پر ریفرنڈم بنانے کے فیصلے نے ان کے مخالفین کو یکجا اور زیادہ متحرک کر دیا ہے۔

محض 24 فیصد ووٹرز کا صدر کی حمایت میں نکلنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کا اپنا روایتی ووٹر بینک بھی فی الوقت دفاعی حالت میں ہے، جس کے باعث آنے والے وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں طاقت کا توازن ڈیموکریٹس کے حق میں منتقل ہونے کا قوی امکان پیدا ہو چکا ہے۔

Related Articles