دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں پائلٹس گتھم گتھا، طیارہ ہائی جیک ہونے کا الرٹ جاری

دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں پائلٹس گتھم گتھا، طیارہ ہائی جیک ہونے کا الرٹ جاری

متحدہ عرب امارات دبئی سے اسرائیل میں تل ابیب جانے والی پرواز میں پائلٹس کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے باعث طیارہ ہائی جیک ہونے کا الرٹ جاری ہونے پر اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے اڑان بھر لی، تاہم طیارے کو بحفاظت سعودی عرب میں اتار لیا گیا۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلائی دبئی کی ایک مسافر پرواز 174 مسافروں کو لے کر دبئی سے تل ابیب کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ ان مسافروں میں 27 بچے بھی شامل تھے۔

یہ پرواز معمول کے مطابق صبح 7:05 پر متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی سے روانہ ہوئی اور اسے 9:30 پر تل ابیب کے قریب بین گوریون ایئرپورٹ پر اترنا تھا۔

تاہم پرواز کے تقریباً 90 منٹ بعد جب طیارہ اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو ایک انتہائی غیر متوقع اور خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں:’نیٹو‘ ممالک کا دفاعی نظام داؤ پرلگ گیا، بھارت نے برطانوی طیارے کی انتہائی خفیہ ٹیکنالوجی چوری کرکے روس کے حوالے کردی

کاک پٹ کے اندر پائلٹس کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی جو بعد ازاں ہاتھا پائی میں بدل گئی۔ اسی دوران طیارے کی جانب سے بین الاقوامی ہنگامی کوڈ ’7700‘ نشر کیا گیا جو کہ عمومی ایمرجنسی کو ظاہر کرتا ہے۔

اس کے فوری بعد طیارے نے ’7500‘ کوڈ کا سگنل بھیجا، جسے بین الاقوامی ہوا بازی میں طیارے میں غیر قانونی مداخلت یا ہائی جیکنگ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ان سگنلز نے فضائی ٹریفک کنٹرولرز اورسیکیورٹی اداروں میں کھلبلی مچا دی۔ پائلٹس نے طیارے کا رخ واپس موڑ دیا اور وہ اردن سے نکل کر سعودی عرب کی فضائی حدود میں داخل ہو گیا۔

طیارہ مسلسل نچلی پرواز کرتا رہا۔ پہلے اس نے جنوب کی طرف اڑان بھری اور پھر مغرب کی جانب مڑتے ہوئے سعودی عرب کے ایک ایئرپورٹ پر بحفاظت لینڈ کر گیا۔

بعد ازاں فلائی دبئی کی انتظامیہ نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی کہ پرواز کا رخ کسی تکنیکی خرابی یا ہائی جیکنگ کے بجائے پائلٹس کے باہمی جھگڑے کی وجہ سے موڑا گیا۔

اسرائیلی سکیورٹی اداروں میں کھلبلی

طیارے سے ہائی جیکنگ کے سگنل ملنے اور پائلٹ سے ریڈیو رابطہ منقطع ہونے پر اسرائیل میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

اسرائیلی فضائیہ نے ہنگامی بنیادوں پر اپنے لڑاکا طیاروں کو فضا میں بلند کر دیا تاکہ طیارے کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

ابتدائی طور پر اسرائیلی حکام کے پاس ہائی جیکنگ کے حتمی شواہد نہیں تھے لیکن کاک پٹ سے رابطہ نہ ہونے کے باعث صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا۔

اس صورتحال نے اسرائیلی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح کو حرکت میں لا کھڑا کیا۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فوری طور پر ایک ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کر لیا۔

دوسری جانب پولیس کمشنر ڈینی لیوی نے دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ کمانڈ سینٹر قائم کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

اسی دوران اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے فضائیہ کے کمانڈر، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈرز کے ساتھ مل کر صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ بالآخر جب طیارہ سعودی عرب میں اتر گیا اور یہ واضح ہوا کہ یہ ہائی جیکنگ نہیں بلکہ عملے کا اندرونی تنازع تھا، تب جا کر اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے سکھ کا سانس لیا۔

ہوا بازی کی تاریخ میں کاک پٹ کے اندر پائلٹس کے درمیان ہاتھا پائی یا جھگڑے کے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں، تاہم جب بھی ایسا ہوتا ہے تو اس کے نتائج پوری پرواز کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی ایوی ایشن قوانین کے تحت پائلٹس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور کاک پٹ کا نظم و ضبط پرواز کی سلامتی کی بنیادی شرط ہے۔

مزید پڑھیں:جنوبی امریکی ملک پیرو میں سیاحوں کا طیارہ گر کر تباہ ،13افراد ہلاک

مشرق وسطیٰ کی موجودہ حساس اور کشیدہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر، فضا میں موجود کسی بھی طیارے سے ہائی جیکنگ کا الرٹ ملنا خطے کے ممالک کے لیے فوری فوجی ردعمل کا باعث بنتا ہے۔

حفاظتی پروٹوکولز اور ایوی ایشن کا مستقبل

یہ واقعہ ہوا بازی کے سخت ترین حفاظتی پروٹوکولز پر کئی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک طرف جہاں آج کے جدید طیارے بہترین ٹیکنالوجی اور آٹو پائلٹ سسٹمز سے لیس ہیں، وہیں انسانی نفسیات، جذبات اور کاک پٹ کے اندر کا ڈسپلن اب بھی پرواز کی سلامتی کا سب سے اہم اور نازک جزو ہے۔

پائلٹس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ہنگامی کوڈز کا فضا میں نشر ہو جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فضائی عملے کی ذہنی صحت، تناؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت اور باہمی ہم آہنگی کا مسلسل جائزہ لینا کس قدر ضروری ہے۔

محض ایک ہائی جیکنگ کوڈ نے ایک ملک کی پوری فوجی اور سیکیورٹی مشینری کو حرکت میں لا کھڑا کیا، جس سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خطے کا سکیورٹی ریڈار کس قدر حساس ہے۔

اگرچہ یہ معاملہ کسی جانی نقصان یا بڑے سانحے کے بغیر حل ہو گیا، لیکن یہ عالمی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک واضح ویک اپ کال ہے کہ عملے کے انتخاب، ان کی پیشہ ورانہ تربیت اور دوران پرواز ان کے رویے میں معمولی سی بھی چوک ایک بین الاقوامی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

Related Articles