کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قیدی کی ہلاکت کا معاملہ ، انتظامیہ کی ابتدائی انکوائری رپورٹ سامنے آگئی۔
کوٹ لکھپت جیل لاہور میں کھانے کے برتن کے تنازع پر قیدیوں کے دو گروپوں کے مابین لڑائی میں شدید زخمی ہونے والا ایک قیدی جنرل ہسپتال لاہور میں جان کی بازی ہار گیا، جیل انتظامیہ نے تین قیدیوں کے خلاف قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی ہے۔
تصادم کیسے شروع ہوا؟
جیل انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق واقعہ 30 ستمبر 2026 کو لاک اپ کے بعد پیش آیا ، قیدی محمد اشرف ولد برکت علی کو کھانا کھانے کے لیے پلیٹ اور برتن نہ ملے، جس پر اس نے کمرے میں اونچی آواز میں گالیاں دینا شروع کر دیں ، دوسرے گروپ کے قیدی آصف محمود ولد محمود احمد کو لگا کہ یہ گالیاں اسے دی جا رہی ہیں، اور جواباً اس نے بھی گالیاں دیں۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گروپ اے کے دونوں قیدیوں نے پانی کا پائپ ٹھیک کرنے والی لوہے کی ہک سے گروپ بی کے قیدیوں پر حملہ کر دیا جس کے جواب میں آصف محمود اور اس کے ساتھیوں نے سٹیل کے چمچ سے بنائے گئے خود ساختہ کٹ سے حملہ کیا ، دونوں گروپس کے قیدی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔
لڑائی میں گروپ اے کے محمد اشرف کی دائیں آنکھ پر زخم آیا، جبکہ فلک شیر ولد ظفر اقبال کے سر اور جسم کے مختلف حصوں پر زخم آئے، گروپ بی کے قیدی معمولی زخمی ہوئے۔
اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ظفر اقبال دیگر ملازمین کے ساتھ موقع پر پہنچے اور صورتحال پر قابو پایا اور زخمیوں کو جیل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں میڈیکل آفیسر نے ابتدائی طبی امداد دی اور دونوں شدید زخمیوں کو پولیس گارڈ کی نگرانی میں جنرل ہسپتال لاہور ریفر کر دیا تاہم محمد اشرف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔
جیل انتظامیہ کی انکوائری
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹو نے جائے وقوعہ پر جا کر معاملے کی انکوائری کی، انکوائری میں سامنے آیا کہ گروپ اے کے دونوں قیدی اور آصف محمود پہلے آپس میں ساتھی قیدی تھے، کچھ عرصہ قبل آصف محمود نے کسی نامعلوم وجہ سے ان سے اپنا کھانا الگ کر لیا تھا۔
مقدمہ درج کرنے کی استدعا
جیل انتظامیہ نے گروپ بی کے تینوں قیدیوں کے خلاف محمد اشرف ولد برکت علی کے قتل اور قیدی فلک شیرولد ظفر اقبال کو شدید زخمی کرنے کی ایف آئی آر درج کروانے کی استدعا کی ہے۔ لہذا گروپ B کے تینوں قید یان کے خلاف قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے FIR کی کاپی دفتر ہزار سال کی جائے۔
یاد رہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے درمیان جھگڑے کے افسوسناک واقعے میں ایک قیدی جاں بحق ہوگیا جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے جس پر سیکرٹری داخلہ پنجاب نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دیا تھا۔