نئے ٹیکسز کا نفاذ ہونے سے مہنگائی کا طوفان آنے کا خدشہ، آٹے کی بوری کی قیمت میں بھی 800 روپے اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق گندم کے ڈیلرز، ہول سیلرزاور فلور ملرز کے کاروبار پر ودہولڈنگ ٹیکس لگنے سے آٹا، میدہ اور فائن آٹا مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ مارکیٹ میں آٹے ، دالوں ،گھی ، سبزیوں سمیت ہر چیز ہی مہنگی ہوگئی ہے جبکہ آنیوالے دنوں میں مہنگائی کی شدت میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
یکم جولائی سے وفاقی حکومت کے عائد ٹیکسز کا اطلاق ہوتے ہی آٹا، چینی، چاولوں اور دالوں سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں نے اُڑان بھرلی ہے۔مارکیٹ میں آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت 1650 کی بجائے 2000 روپے، گھی 5سو،دال چنا 280، دال ماش 600 جبکہ پیاز، ٹماٹر کی قیمت 170،160روپے تک پہنچ چکی ہے۔
آٹے کی قیمت میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ گندم کے ڈیلرز ، ہول سیلرز اور فلور ملز کے کاروبار پر ود ہولڈنگ ٹیکس لگنے سے آٹے، میدے اور فائن آٹے کی قیمت میں8سوروپے فی بوری تک اضافے کا خدشہ ہے۔بتایا جارہا ہے کہ ود ہولڈنگ ٹیکس لگنے کے بعد آٹے کی 20کلو کی بوری کی قیمت 1830روپےتک پہنچ جائیگی۔ فائنل میدے کی 80کلو گرام کی بوری کی قیمت 8600روپے تک ہونے کا امکان ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت سے وِد ہولڈنگ ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔