عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کو اپنا برا چاہنے والوں سے محتاط رہنا چاہیے جو امریکا کو پھر سے دلدل میں گھسیٹنا چاہتے ہیں، اسی طرح متحدہ عرب امارات کو بھی محتاط رہنا چاہیے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جسے انہوں نے آبنائے ہرمز میں ”آزادی کا منصوبہ” قرار دیا تھا اور اسے ”ناکام منصوبہ ” کہا۔
دریں اثنا ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی ائیرکرافٹ کیرِیئر کی آبنائے ہُرمُز کی طرف بڑھنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔
ایک بیان میں کمانڈر ان چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ ایران نے دشمن سے نمٹنے کے لیے کروز میزائل اور لڑاکا ڈرون تعینات کردیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی ائیرکرافٹ کیریئر سمجھتا ہے کہ وہ خفیہ رہ سکنے والے ریڈار کی مدد سے آبنائے ہُرمُز تک پہنچ جائے گا لیکن انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ایران کا جواب “فائر” ہوگا۔
فروری کے آخر سے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں عملی طور پر سخت پابندیوں اور کنٹرول کے باعث صورتحال کشیدہ رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، اس دوران امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں جو تاحال جاری ہیں۔