سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہےمیں اب بھی پی ٹی آئی کا حصہ ہوں، جب پارٹی چھوڑی ہی نہیں تو اس میں واپس جانے کا کیا مطلب ہے ۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ کچھ لوگوں کے خیال میں تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل کی صعوبت برداشت نہیں کرسکیں گے، کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ تحریک انصاف ٹوٹ جائے گی، جواب 8 فروری کو مل گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دباؤ برداشت کرنے کی بھی ہر شخص کی ایک حد ہوتی ہے، دباؤ بھی ہر جگہ مختلف ہوتے ہیں، کسی پر تشدد تو کبھی کسی کی فیملی پر دباؤ ہوتا ہے۔ سابق وزیر نے میزبان کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی خود بھی ڈیل کرنے والے نہیں اور نہ ان کے ووٹرزانہیں ڈیل کرنے دیں گے۔ ذاتی کیسز کی وجہ سے ہی ملک کی سیاست خراب ہوئی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان نے شیر افضل مروت کیخلاف سخت ہدایات جاری کر دیں
پاکستان کے حالات کو معمول کی طرف لانے کے لیے ذاتی کیسز کا خاتمہ کرنا ہو گا ، فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں حکومتی اتحاد کو نہیں ملیں گی کیونکہ اس بات پر ججز کا اتفاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہئیں، اس پر ججز میں تقسیم ہے، ججز مان رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان لینے کے فیصلے کی غلط تشریح کی۔

