(سید ذیشان)
مالی مشکلات کے شکار صوبہ خیبرپختونخوا نے اہم اور اہم ترین شخصیات اور اداروں کے تحفظ کیلئے علیحدہ سیکورٹی ڈویژن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت گریڈ 7 سے 18 تک 11 ہزار 483 پولیس افسران اور اہلکاروں کی آسامیاں تخلیق کی جائیں گی جس سے خزانے پر سالانہ 6 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ آزاد ڈیجیٹل کے پاس موجودہ انتہائی حساس دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا بھر میں 10 ہزار 483 سیکورٹی اہلکار وی وی آئی پیز اور وی آئی پیز کی سیکورٹی پر تعینات ہے۔
جس میں اضلاع سے 7 ہزار 608، ایلیٹ فورس سے 1 ہزار 26 اور ایف آر پی 18 سو 49 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے اور عام عوام کی سیکورٹی کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔ موجودہ بدامنی کی حالات میں ایک بڑی تعداد میں پولیس اہلکار وی آئی پیز کی سیکورٹی پر ہونے کی وجہ سے پولیس حکام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ گریڈ 18 کے سپرٹینڈنٹ آف پولیس کی 8 آسامیوں پر بھرتیاں کی جائے گی،سب انسپکٹر گریڈ 14 پر 105 اسسٹنٹ سب انسپکٹر پر 210، ہیڈ کانسٹیبل کی 1 ہزار 48 اور کانسٹیبل کی 10 ہزار 483 پولیس اہلکاروں کی بھرتیاں کی جائے گی۔دستاویزات کے مطابق یہ 11 ہزار 853 بھرتیاں تین مرحلوں میں کی جائے گئی جس پر 6 ہزار 26 ملین یعنی سالانہ 6 ارب روپے سے زائد کا مالی بوجھ پڑے گا۔ پہلے مرحلے میں یعنی رواں سال 4 ہزار اہلکاروں کو بھرتی کیا جائے گا جس کی وجہ سے خزانہ پر 2 ہزار 17 ملین روپے کا بوجھ پڑے گا۔
آنے والے سال یعنی 2026-25 میں بھی 4 ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کی جائے گی جس سے خزانہ پر 2 ہزار 23 ملین روپے کا بوجھ پڑے گا۔ دستاویز کے مطابق سال 2027-26 میں 3 ہزار 8 سو 53 آسامیوں پر بھرتیاں کی جائے گی جس سے خزانہ پر 19 سو 85 ملین روپے کا بوجھ پڑے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے 11 ہزار 853 اہلکاروں کی تعیناتی کی منظوری بھی دی ہے اور اب اس سمری کی منظوری خیبرپختونخوا کابینہ اجلاس سے لی جائے گی۔ صوبے کے 7 اضلاع میں ضلعی سیکورٹی ڈویژنز کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا جو پشاور، مردان، ایبٹ آباد، ملاکنڈ، ملاکنڈ، کوہاٹ، بنوں، اور ڈی آئی خان قائم ہوگے۔ ان ضلعی سیکورٹی ڈویژن میں بھی 56 اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا جس میں گریڈ 18 سے لیکر گریڈ 11 تک پولیس اہلکار شامل ہونگے۔

