ماضی میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو فنڈنگ کون کون کرتا تھا، فہرستیں بننا شروع، بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز

ماضی میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو فنڈنگ کون کون کرتا تھا، فہرستیں بننا شروع، بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز

حکومتِ آزاد کشمیر نے ریاست میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ 2014 کے تحت باقاعدہ طور پر ’کالعدم تنظیم‘ قرار دینے کے بعد اسے فنڈنگ کرنے والوں کا بھی گھیراتنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد یہ تنظیم انسدادِ دہشتگردی کے ایکٹ کے فرسٹ شیڈول میں شامل کر دی گئی ہے۔

اس اہم ترین فیصلے کے فوراً بعد امن و امان برقرار رکھنے والے اعلیٰ سیکیورٹی اداروں نے اس بات کی کھوج لگانے کے لیے ایک ہائی لیول انکوائری شروع کر دی ہے کہ ریاست، آئین اور ریاستی اداروں کے خلاف باقاعدہ مہم چلانے والی اس تنظیم کو پرتشدد احتجاج منظم کرنے کے لیے فنڈز کہاں سے ملتے رہے اور اس کے پسِ پردہ کون سے مہرے متحرک تھے۔

فنڈنگ کرنے والوں کی فہرستیں تیار

ذرائع کے مطابق انٹیلیجنس اور لا انفورسمنٹ ایجنسیوں نے ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو مالی معاونت فراہم کرنے والے مقامی اور بین الاقوامی نیٹ ورک کا سراغ لگانا شروع کر دیا ہے۔

تحقیقاتی اداروں نے فنڈز دینے والے مشکوک افراد، تاجروں اور بعض مخصوص عناصر کی ابتدائی فہرستیں تیار کر لی ہیں جن کے خلاف کسی بھی وقت کریک ڈاؤن متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈھل چیک پوسٹ واقعہ: تمام پولیس اہلکار بازیاب، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کے خلاف گھیرا تنگ

تفتیش کار اس پہلو پر خاص توجہ دے رہے ہیں کہ ڈیجیٹل ذرائع، حوالہ ہنڈی یا بینکنگ چینلز کے ذریعے تنظیم کے اکاؤنٹس یا قائدین تک کتنا پیسہ پہنچایا گیا تاکہ عام شہریوں کو اکسا کر ہڑتالیں اور پہیہ جام مظاہرے کروائے جا سکیں۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا گھناؤنا کردار اور پاکستان مخالف پروپیگنڈا

سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ماضی میں ایسے متعدد ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی‘ کی آڑ میں ہونے والی بدامنی کا سب سے زیادہ فائدہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اٹھاتی رہی ہے۔

 ’را‘ نے اس تنظیم کے احتجاجی طرزِ عمل، سڑکوں کی بندش اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کو بنیاد بنا کر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف ایک منظم اور گھناؤنا پروپیگنڈا مہم چلائی۔

بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا ہینڈلز نے آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو توڑ مروڑ کر پیش کیا تاکہ دنیا کے سامنے پاکستان کا امیج خراب کیا جا سکے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس کمیٹی کی سرگرمیاں بالواسطہ یا بلاواسطہ ریاست مخالف ایجنڈے کو تقویت دے رہی تھیں۔

آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی نے ابتدا میں سستے آٹے اور بجلی کے نرخوں میں کمی جیسے عوامی مطالبات کو لے کر تحریک کا آغاز کیا تھا، جس پر حکومتِ پاکستان نے 23 ارب روپے کا خطیر پیکج دے کر ان کے جائز مطالبات تسلیم بھی کر لیے تھے۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر میں مجموعی صورتحال پرامن،عوام نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال مسترد کردی

تاہم مطالبات کی منظوری کے باوجود اس تنظیم نے اپنا احتجاج ختم کرنے کے بجائے سیاسی رنگ اختیار کر لیا اور اسمبلی کی 12 مہاجر نشستوں کے خاتمے جیسے نئے اور متنازع مطالبات سامنے لے آئی، جس پر اب آزاد کشمیر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آ چکا ہے، اس فیصلے میں حکومتی مؤقف کی درست اور جائز قرار دیا گیا ہے۔

حال ہی میں آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی اس تنظیم نے 9 جون کو دوبارہ پہیہ جام ہڑتال کی کال دی، جس کا مقصد انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا اور علاقے میں انارکی پھیلانا تھا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے حکومت نے اسے کالعدم قرار دینے کا حتمی قدم اٹھایا۔

فیصلے کے دور رس اثرات

اگر حکومت کے اس اقدام اور سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات کو دیکھا جائے تو چند اہم ترین حقائق سامنے آتے ہیں

ریاستی رٹ کا قیام

حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جائز معاشی مطالبات کی آڑ میں کسی بھی گروہ کو متوازی حکومت چلانے یا ریاست کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کا نفاذ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب پانی سر سے گزر چکا تھا اور امن و امان کا تحفظ اولین ترجیح بن چکا ہے۔

ففتھ جنریشن وارفیئر کا توڑ

فنڈنگ کی تحقیقات اور ’را‘ کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنا اس لیے ضروری تھا کیونکہ آزاد کشمیر کو پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وارفیئر کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ فنڈز کے راستے بند ہونے سے اس نیٹ ورک کی کمر ٹوٹ جائے گی۔

جمہوری عمل کا تحفظ

 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل اس تنظیم پر پابندی عائد کرنا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ووٹرز بغیر کسی خوف و ہراس کے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں اور دباؤ کی سیاست کا خاتمہ ہو۔

Related Articles