جماعت اسلامی کے حکومت سے مذاکرات طے، کمیٹی تشکیل ، اہم مطالبات سامنے آگئے

جماعت اسلامی کے حکومت سے مذاکرات طے، کمیٹی تشکیل ، اہم مطالبات سامنے آگئے

مہنگائی کے خلاف دھرنا دینے والی جماعت اسلامی کے حکومت کے سامنے رکھے گئے 10مطالبات سامنے آگئے، جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت 500 یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں کو 50 فیصد رعایت دے۔

جماعت اسلامی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کےلیے کمیٹی تشکیل دےدی ہے، مذاکراتی کمیٹی کی سربراہی لیاقت بلوچ کریں گے۔

راولپنڈی کے لیاقت باغ میں عوام کے ریلیف کے لیے جاری جماعت اسلامی کے دھرنے میں وفاقی وزیراطلاعات اور طارق فضل چوہدری سمیت حکومت وفد نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی۔

ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کی قیادت سے دھرنا فوری ختم کرنے کی درخواست کی، جس کو جماعت اسلامی نے مسترد کردیا تاہم حکومتی پیش کش پر حافظ نعیم الرحمان نے مذاکرات کے لیے ہانمی بھرلی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومتی نمائندہ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے دھرنے میں پہنچ کر حافظ نعیم اور لیاقت بلوچ سے ملاقات کی اور کہا کہ میں دعوت دینے آیا ہوں اور مذاکرات کل ہوں گے۔

جماعت اسلامی کے مطالبات میں کہا گیا ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی ختم اور قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری واپس لے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 20 فیصد کمی لائی جائے، اسٹیشنری آئٹمز پر لگائے گئے ٹیکسز فوری ختم کیےجائیں۔

حکومتی اخراجات کم کرکے غیر ترقیاتی اخراجات پر 35 فیصد کٹ لگایا جائے، کیپیسٹی چارجز اور آئی پی پیز کو ڈالروں میں ادائیگی کرنے کا معاہدہ ختم کیا جائے، آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔

جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ زراعت اور صنعت پر ناجائز ٹیکس ختم اور 50 فیصد بوجھ کم کیا جائے، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ نوجوانوں کو روزگار ملے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس ختم اور مراعات یافتہ طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *