وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان کیخلاف سوچی سمجھی سازش کے تحت جنگ کی جارہی ہے، ہم جتھوں کو بلوچستان کا امن خراب کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دیں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی میں کہا ہے کہ اگست میں گوادر میں بہت بڑا وفد آرہا ہےاورسی پیک کا دوسرا مرحلہ بھی شروع کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے گواد جانے کا مقصد تھا کہ علاقے کو بند کرکے سی پیک کو روکیں ۔ماہ رنگ بلوچ سے ہمارا معاہدہ ہوا تھا کہ جلسے یا دھرنے کی اجازت لی جائیگی۔انہوں نے اپوزیشن کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تیل چھڑکنے کی بجائے آئیں، مذاکرات کا اختیار دیتا ہوں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ جو لوگ پرتشدد ہیں کیا ہم انہیں ہار پہنائیں گے؟ کیا جتھوں کو اجازت دیدی جائے کہ وہ آکر اسمبلی چلائیں؟ پرتشدد ہجوم کی جانب سے اشتعال انگیزی ناقابل قبول ہے۔
مزید پڑھیں: نام نہاد بلوچ راجی مُچی کے آڑ میں پرتشدد ہجوم کا سیکیورٹی فوسز پر حملہ،1اہلکار شہید اور متعدد زخمی
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ میں ریاست کی خاطر اپنا سیاسی سرمایہ ضائع کرنے کے لیے تیار ہوں، بلوچستان کے لوگ سمجھ چکے ہیں کہ ان کی ترقی پاکستان کے ساتھ ہے۔آج سبی کے لانس نائیک فائرنگ سے شہید ہوگئے، جبکہ ایک افسر زخمی ہوا، بتایا جائے سیکیورٹی فورسز کس کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں۔جتھوں کی جانب سے تشدد کرکے لوگوں کو شہید کیا جارہا ہے، اس پر اسمبلی کب جذباتی ہوگی۔
انہوں نے پھر کہاکہ سوشل میڈیا اتنا بے لگام ہوچکا کہ جس کا جودل چاہتا ہے کہہ دیتا ہے، عالمی سازشیں ہورہی ہیں۔ پاکستان کو توڑنے والوں کو جانتے ہیں۔ہمیں ریاست اور نوجوانوں کے درمیان خلا کو گڈگورننس سے پُر کرنا ہے۔ ضروری ہے کہ تاریخ کو درست کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ ہم کسی کو لاشوں کی سیاست نہیں کرنے دیں گے۔ بلوچستان اب مزید تشدد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے مزید کہاکہ ہم آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن حکومتی رٹ قائم کرنے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

