پشاور (حسام الدین) پشاور کے علاقے درہ آدم خیل میں موسلا دھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب سے 11 افراد جاں بحق ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق ریسیکو ترجمان مطابق تمام جاں بحق افراد گھر کے تہہ خانے میں سو رہے تھے کہ بارش کا پانی گھر میں داخل ہوا۔ ریسکیو کے مطابق یہ واقع درہ آدم خیل کے علاقہ اولڈ بازی خیل میں پیش آیا ہے جو دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے آپریشن کرنا اور ڈیڈ باڈیز کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی یونٹ 100 روپے تک جانے کی انکشاف
باجوڑ کی تحصیل خار مامینزو کے مقام پر سیلابی ریلے کا پانی مقامی آبادی میں داخل ہونے کی وجہ 18 افراد پھنس گئے ۔باجوڑ مختلف مقامات پر سیلابی ریلی میں پھنسے تمام افراد باحفاظت محفوظ مقامات اور بعض کو ڈسٹرکٹ ہسپتال خار منتقل کی گئی ہیں۔ باجوڑ کے علاقے سلطان کس خار سیلابی ریلے میں دو بچیاں ڈوب گئی ۔ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے حلیمہ بی بی عمر 12 سال اور مدیحہ بی بی عمر 10 سال سکنہ سلطان کس شاگو کو ریسکیو کرکے بنیادی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ ہسپتال خار منتقل کیا۔
ریسکیو ترجمان کے مطابق صوابی ٹوپی کے حدود کوٹھا گاؤں میں حبیب اللہ نامی شخص کے مویشی خانے کا چھت گرنے سے ملبے تلے دو بیل دب گئے ۔ گزشتہ رات نوشہرہ کے تحصیل جہانگیرہ خیر آباد کے مقام پر چپس ماربل فیکٹری میں چھت گرنے کا گرنے کی وجہ سے دو افراد زخمی ہوئے جس میں عباس عمر 25 سال سكنہ چارسدہ اور شمس الحق عمر 40 سال سكنہ چارسدہ شامل۔
چارسدہ کے علاقے سرڈھیری قبرستان کے قریب گھر کے برآمدے کی دیوار گر گئی، جس میں خاتون سمیت 2 افراد زخمی ہوئے، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ہسپتال منتقل کردیا۔
مانسہرہ مہانڈری کے مقام پر بالاکوٹ اور ناران کو ملانے والا پل سیلابی ریلے کی وجہ سے بہہ گیا۔مانسہرہ و گردنواح میں مسلسل موسلادهار بارش کی وجہ سے ندی نالوں میں شدید طغیانی ہے ۔ریسکیو نے عوام کو پیغام دیا ہے کہاگرکوئی اس وقت وادی کاغان میں ہیں تو دریاؤں، ندیوں اور نشیبی علاقوں سے دور محفوظ پناہ گاہ تلاش کریں۔ اچانک سیلاب کا خطرہ زیادہ ہے اور محفوظ اور بلند علاقوں میں رہنا ضروری ہے۔
دوسری جانب تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک خاندان کے 6 افراد سمیت 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔ علاوہ ازیں راولپنڈی میں موسلا دھار بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے ماں اور بیٹی جاں بحق ہوگئے۔ اسی طرح صوابی میں موسلادھار بارش کے باعث ہونے والے مختلف حادثات میں تین افراد جاں بحق ہوگئے۔
موسلا دھار بارش سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے ، سڑکوں اور گلیوں میں پانی بھر گیا ہے ، اور متعدد مکانات منہدم ہوگئے ہیں۔ بارش کی وجہ سے بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں مون سون کے شدید اسپیل کی وجہ سے نشیبی علاقوں میں سیلاب آ گیا ہے اور دونوں شہروں میں رین ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا جاں بحق کارکنوں کی بیواؤں کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ
خان پور ہزارہ اور گردونواح میں موسلا دھار بارش سے ندی نالوں میں شدید سیلاب آ گیا ہے جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ملانے والا ٹرنو پل پانی میں ڈوب گیا ہے۔

