بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں خلافِ قانون کی گئی ادائیگیوں کو واپس لینے کی سفارش کر دی گئی

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں خلافِ قانون کی گئی ادائیگیوں کو واپس لینے کی سفارش کر دی گئی

آڈیٹر جنرل نے بی آئی ایس پی ملازمین کو اعزازیہ کی مد میں کی گئی خلاف قانون ادائیگیوں بارے فیصلے سناتے ہوئے ادایئگیوں کو واپس لینے کی سفارش کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بینظر انکم سپورٹ پروگرام میں ملازمین کو اعزازیہ کے طور پر 22 کروڑ 40 لاکھ روپے خلاف قانون ادائیگیو ں پر نوٹس لیتے ہوئے ادائیگیاں واپس لینے کی سفارش کر دی ہے۔ بی آئی ایس پی نے یہ ادائیگی مالی سال 2022-23 میں کی تھیں جنہیں آڈیٹر جنرل نے بی آئی ایس پی کی اعزازیہ کے طور ادا کی گئی رقم ناقابل قبول قرار دے دیا ۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق بی آئی ایس پی کے تمام ملازمین کو مئی 2023 میں 2 تنخواہیں اعزازیہ کے طور پر ادا کی گئی اور بی آئی ایس پی کے ملازمین کو جون 2023 میں ایک تنخواہ اعزازیہ کے طور پر دی گئی۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق بی آئی ایس پی کے مختلف ونگز کے ملازمین کو بھی ایک تنخواہ اعزازیہ کے طور پر دی گئی اور ان ادائیگیوں کو بی آئی ایس پی کی جانب سے ظاہر بھی نہیں کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں ، اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر

اس تمام تر صورتحال بارے بینظر انکم سپورٹ پروگرام انتظامیہ کا کہنا اتھا کہ بی آئی ایس پی ایکٹ کے تحت سیکرٹری بورڈ کو اختیارات حاصل ہیں ، تاہم آڈیٹر جنرل نے جواب مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی کے ضوابط کے تحت ملازمین کے فوائد کو ان کی کارکردگی اور اہداف سے جوڑا جانا چاہیے۔
آڈیٹر جنرل نے بی آئی ایس پی ملازمین کو اعزازیہ کی مد میں کی گئی خلاف قانون ادائیگیوں کو واپس لینے کی سفارش کردی ہے ۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *