سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے ایڈوائزر بنے ہوئے تھے۔
نجی ٹی وی جیو کے پروگرام میں حامد میر نے کہا کہ تین چار مہینے پہلے تک جنرل فیض کا تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں کے ساتھ رابطہ تھا ان کو یہ حاضر سروس فوجی افسران کے خلاف استعمال کررہے تھے۔ یہ انہیں انسٹریکشن دیتے تھے کہ یہ فوجی افسر ہے اس نے یہ سازش کی ہے ،اس کا پریس کانفرنس میں نام لو ۔ تحریک انصاف کے تین چار رہنماؤں نے ایک میٹنگ کی کہ جنرل فیض روز کسی کا نام دے دیتا ہے کہ اس کو بدنام کرو۔ پھر انہوں نے اڈیالہ جیل میں ملاقاتیں کیں ۔ پھر اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ جنرل فیض سے ہمیں نہ ہمدردی ہے نہ ان سے کوئی مدد لینے کی ضرورت ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید کی گرفتاری کی اصل وجہ کیا ہے؟عمر چیمہ کے تہلکہ خیز انکشافات
انہوں نے کہا کہ جو پی ٹی آئی کے لوگ تھے انہوں نے میٹنگ کی کہ فیض حمید روز ہی کسی نہ کسی کا نام دے دیتا ہے اب ہم کیا کریں تب جا کر انہوں نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقاتیں کیں اور پھر انہوں نے کچھ دن پہلے ان افیشلی فیصلہ کیا کہ جنرل(ر) فیض حمید سے ہمیں نہ کوئی ہمدردی ہے نہ ہمیں ان سے کوئی مدد لینے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہم نے ان سے ڈکٹیشن لینی ہے۔
حامد میر نے کہا کہ فیض حمید کیخلاف کاروائی کا آغاز ہوا ہے بڑا خوش آئندہ ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ فائدہ تحریک انصاف کو ہوگا کیونکہ تحریک انصاف اب جو ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار تھی کہ ان کی لیڈرشپ جیل میں بند ہے اور باہر ان کو انسٹرکشن دینے والا کوئی نہیں تھا توجنرل (ر)فیض حمید اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کے خود ان کے ایک ایڈوائزر بنے ہوئے تھے، گرفتاری کے بعد اب ان کا رابطہ کٹ گیا ہے اس سے پی ٹی آئی کو بہت فائدہ ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ نو مئی کے واقعات میں پی ٹی آئی کے کچھ لوگ گرفتار ہو گئے کچھ لوگ ابھی گرفتار نہیں ہوئے جو ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے وہ اگر گرفتاری دینے کی کوشش یا فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں فیض حمید کا پیغام جاتا تھا کہ نہیں تم نے گرفتاری نہیں دینی ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو اگر کسی غلط لائن پہ لگایا تو فیض حمید صاحب نے لگایا ہے ۔
حامد میر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی آدمی وردی پہن کر سیاست میں مداخلت کرتا ہے اس کو روکا نہ جائے بلکہ حوصلہ افزائی کی جائے۔جب اس کی وردی اتر جاتی ہے پھر سیاست میں مداخلت نہیں کرتا پھر وہ سیاست میں سازشیں کرتا ہے۔جنرل فیض حمید کا ریٹائرمنٹ کے بعد پچھلے ڈیڑھ سال میں جو کردار تھاوہ جوڑ توڑ کرتے تھے اس میں سے سازش کا پہلو نکلتا ہے۔اس میں سب سے اہم9 مئی کا معاملہ ہے ۔9 مئی کے واقعہ میں تحریک انصاف کے درجنوں رہنماؤں پر مقدمات درج ہوئے سیکڑوں لوگ گرفتار ہوگئے۔ جو مقدمات درج ہوئے جوچارج شیٹ لگائی گئی عدالتوں میں پیش کی گئی کہیں جنرل فیض کا ذکر نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا
لوگ ہمیں بتا رہے ہیں کہ فون تو جنرل فیض نے کیا تھا کہ فلاں جگہ پہنچو ایف آئی آر میں ان کا نام نہیں ہے۔ میرے ساتھ اس حکومت اور کچھ دیگر اہم شخصیات نے جنرل فیض کے حوالے سے اعتراف کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اطلاعات ہیں ثبوت بھی ہیں لیکن کارروائی نہیں ہورہی۔شہباز شریف کی اس حکومت میں کچھ لوگ ہیں جو جنرل فیض کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

