سپریم کورٹ آف پاکستان نے مونال ریسٹورنٹ کے مالک کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بادی النظر میں لقمان علیا فضل توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ لقمان علی نے مارگلہ ہلز سے ریسٹورنٹ ختم کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی تاہم عدالتی فیصلے کے بعد انہوں نے ججز کیخلاف پراپیگنڈا کیا۔
سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامے میں کہا کہ عدالت میں فریقین نے رضامندی ظاہر کی تھی کہ نیشنل پارک ایریا سے ریسٹورنٹس منتقل کر دیں گے۔ مونال ریسٹورنٹ کے مالک لقمان علی افضل نے سپریم کورٹ کیخلاف مہم چلائی۔عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے ملازمین بیروزگار ہوئے۔ بادی النظر میں لقمان علی افضل کا عدلیہ مخالف مہم چلانا تو ہین عدالت ہے، عدالت نے لقمان علی افضل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔
مزید پڑھیں: حکومت سپریم کورٹ آف پاکستان کے پَر کُترنا چاہتی ہے، عمرایوب
حکمنامے میں مزید کہا ہے کہ حکومت نے وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کو موسمیاتی تبدیلی کی وزارت سے وزارت داخلہ کے سپرد کرنے کو نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔ نوٹیفکیشن وزیراعظم کی جانب سے واپس لیا گیا، وزیراعظم آفس کی بے توقیری نہیں ہونی چاہئے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ وزیراعظم آفس کو دیکھنا چاہئے دی جانیوالی تجاویز عوامی مفاد کے تحت ہے یا ذاتی مفاد کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ یہ معاملہ حکومت پر چھوڑتے ہیں۔
عدالت نے وائلڈ لائف بورڈ وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے سے متعلق اٹارنی جنرل سے وضاحت طلب کرلی۔

