بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل فیض کا معاملہ نیشنل سیکورٹی کا مسلئہ نہیں بلکہ لوکل مسلئہ ہے اس لیے انکا اوپن ٹرائل کیا جائے تاکہ تحقیقات سامنے آ سکیں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا اوپن ٹرائل کیا جائے۔۔بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل فیض کا معاملہ نیشنل سیکورٹی کا مسلئہ نہیں بلکہ لوکل مسلئہ ہے اور انکا اوپن ٹرائل کیا جائے تاکہ اوپن ٹرائل سے دنیا کے سامنے حقائق آجائیں۔
یہ بھی پڑھیں: میں 22 اگست سے پہلے گرفتاری نہیں دینا چاہتا، شیر افضل مروت
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ مجھے معلوم ہے یہ اوپن ٹرائل نہیں بند کمرے میں فیصلہ کریں گے کیونکہ میرے خلاف سارے کیسز بنیاد کھوچکے ہیں۔جنرل فیض سے ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی رابط نہیں نہ کوئی تعلق رہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ آدمی جب ریٹائرڈ ہوجاتا ہے وہ فارغ ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نو مئی کی سازش میری گرفتاری سے شروع ہوئی پتہ کریں میری گرفتاری کا آرڈر کس نے دیا تھا۔ انہوں نےکہا کہ مجھے معلوم ہے مجھے گرفتار کرنے کا آرڈر کس نے دیا، جس پرصحافی نے پوچھا کےکس نے آپ کی گرفتاری کا آرڈر کیا، جس پر عمران خان نے کہا کہ جو رینجرز کو کنٹرول کرتا ہے ۔
، صحافی کے سوال پر بانی پی ٹی آئی نام لینے سے کتراتے رہے۔عمران خان نے کہا کہ جنرل فیض ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے کیا فایدہ دے سکتا تھا اوریہ احمق لوگ ہیں کہتے ہیں جنرل فیض نے مجھے کوئی فایدہ پہنچایا ہے۔صحافی نے پوچھا کےآپ وفاقی حکومت سے یا فوج سے جنرل فیض کے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کررہے ہیں، جس پر عمران خان نے کہا کہ میں آرمی چیف سے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کرتا ہوں، کیونکہ جنرل فیض اور میرا معاملہ فوج کا انٹرنل مسئلہ نہیں۔ میں سول سابق وزیراعظم ہوں مجھے ملٹری کورٹ میں لے جانے سے پاکستان کا امیج خراب ہوگا۔جنرل فیض ریٹائرمنٹ کے بعد ہیرو سے زیرو ہوگیا تھا۔عمران خان نے کہا کہ اگر 9 مئی سازش کا مرکزی کردار جنرل فیض ہے تو مطالبہ کررہا ہوں اوپن ٹرائل کیا جائے۔