ٹیکس نیٹ میں توسیع ، پاکستان نے اہم ہدف حاصل کر لیا، ورلڈ بینک کا اعتراف

ٹیکس نیٹ میں توسیع ، پاکستان نے اہم ہدف حاصل کر لیا، ورلڈ بینک کا اعتراف

ورلڈ بینک نے پاکستان کے ٹیکس اصلاحاتی پروگرام “پاکستان ریزز ریونیو” کے حوالے سے اپنی تازہ جائزہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے پروگرام کی درجہ بندی ایک درجہ کم کر کے “معتدل اطمینان بخش” قرار دے دی ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور ٹیکس نظام کو مزید آسان اور مؤثر بنانے کے لیے مقرر کیے گئے متعدد اہداف تاحال مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے جس کے باعث پروگرام کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

400 ملین ڈالر مالیت کا پروگرام

رپورٹ کے مطابق400 ملین ڈالر مالیت کا یہ پروگرام 2019 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات لانا، محصولات میں اضافہ کرنا اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو سترہ فیصد تک پہنچانا تھا۔ تاہم مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے باعث بعد ازاں اس ہدف کو کم کر کے دس فیصد مقرر کیا گیا جبکہ پروگرام کی مدت میں بھی توسیع کی گئی تاکہ اصلاحاتی اقدامات کو مزید وقت دیا جا سکے۔

ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب

ورلڈ بینک کے جائزے میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال2025 کے اختتام تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 9 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد تک پہنچ گی جو ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس دوران ایف بی آر نے11.07 کھرب روپے کی ٹیکس وصولیاں بھی کیں تاہم ادارہ اپنے مقررہ ہدف سے تقریباً 1.02 کھرب روپے کم وصولیاں کر سکا۔

انکم ٹیکس ریٹرن فائلرز

رپورٹ میں انکم ٹیکس ریٹرن فائلرز کی تعداد میں نمایاں اضافے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 4.07 ملین سے بڑھ کر 7 ملین تک پہنچ گئی۔ اس کے باوجود 16.02ملین رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان میں سے صرف45 فیصد افراد نے ریٹرن جمع کرائے جس سے ٹیکس تعمیل کے نظام میں موجود چیلنجز اور کمزوریوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔

ٹیکس اخراجات

عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایف بی آر نے ٹیکس اخراجات سے متعلق تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام کو مزید شعبوں تک وسعت دینے کے اقدامات جاری ہیں۔ تاہم کسٹمز کلیئرنس، ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی، بقایاجات کی مؤثر نگرانی اور دیگر انتظامی اصلاحات کے شعبوں میں پیش رفت ابھی بھی مطلوبہ اہداف سے کم ہے۔

متحدہ ٹیکس انتظامی ضوابط

ورلڈ بینک کے مطابق متحدہ ٹیکس انتظامی ضوابط کا مسودہ ابھی تک منظور نہیں ہو سکا جبکہ تاجروں اور ٹیکس دہندگان کے لیے واضح سروس معیارات بھی نافذ نہیں کیے جا سکے۔ اسی طرح ٹیکس بقایاجات کی نگرانی اور رپورٹنگ کے لیے ایک جامع اور مؤثر نظام بھی تاحال مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔

موبائل اینڈ آن لائن ٹیکس ادائیگی

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ موبائل اور آن لائن ٹیکس ادائیگی کی سہولت دستیاب ہے، لیکن گزشتہ مالی سالوں کے واجبات اور قابل وصول رقوم کو باہمی طور پر ایڈجسٹ کرنے کا نظام ابھی متعارف نہیں کرایا گیا۔

حتمی سفارشات

ورلڈ بینک کی ٹیم جولائی 2026 میں پاکستان کے اس اصلاحاتی پروگرام کا ایک اور تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس جائزے کے دوران جاری اصلاحات، حکومتی اقدامات اور مقررہ اہداف کے حصول کی رفتار کا دوبارہ تجزیہ کیا جائے گا، جس کے بعد پروگرام کی آئندہ سمت اور کارکردگی کے بارے میں مزید سفارشات پیش کی جائیں گی۔

editor

Related Articles