خیبر پختونخوا میں وسائل کی کمی کے سبب ایک طرف ریسکیو 1122 ایمرجنسی سروسز مسائل سے دوچار ہیں اور دوسری طرف تحریکِ انصاف کے جلسے میں 35 سے زائد اپریشنل گاڑیاں صوابی انٹر چینج پہنچا دی گئیں اور لاکھوں روپے کا پٹرول پھونک دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے22 اگست کو ہونے والے جلسے کے لیے ریسکیو1122 کی 35 سے زائد اپریشنل گاڑیاں صوابی انٹرچینج پہنچا دی گئیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشنل گاڑیوں میں ایمبولینسز، فائر ویکلز، ایکسیوٹرز، ہیوی کرینز اور 100 کے قریب اہلکار شامل ہیں، ریسکیو1122 کی آپریشنل گاڑیاں اور اہلکار پشاور، مردان، نوشہرہ، سوات، دیر، باجوڑ اور مہمند کے اضلاع سے صوابی بھیجی گئیں ہیں جس سے وہاں کے عوام الناس کو ایمرجنسی کے دوران سہولیات فراہمی میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ اس کے علاؤہ ایک دن میں لاکھوں روپے کا پٹرول و ڈیزل بھی استعمال کیا گیا جبکہ ریسکیو ادارے کی جانب سے مختلف اضلاع میں پٹرول پمپس مالکان کا نادہندہ ہے اور ہمیشہ بجٹ کی کمی اور صوبائی حکومت کی جانب سے بجٹ فراہمی میں ٹال مٹول کے لفظ استعمال کرتا رہتا ہے۔