پنجاب حکومت نے مجموعی طور پر 5ہزار131 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

پنجاب حکومت نے مجموعی طور پر 5ہزار131 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

پنجاب کے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے آئندہ مالی سال کے لیے 5131 ارب روپے کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کیا، بجٹ میں مجموعی اخراجات کا تخمینہ 3569 ارب 60 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے جبکہ پی ایف سی ایوارڈ کے تحت بلدیاتی اداروں کے لیے 803 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سروس ڈلیوری کے اخراجات 783 ارب روپے اور سرکاری اداروں کے روزمرہ اخراجات 578 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ جاری اخراجات کا حجم 679 ارب روپے بتایا گیا ہے۔

اسمبلی کا اجلاس اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں ایک گھنٹہ چالیس منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، نعرے بازی کی اور حکومت مخالف پلے کارڈز اٹھا کر ایوان میں شور شرابہ کیا، وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران احتجاج میں مزید شدت آگئی اور اپوزیشن ارکان نشستوں سے اٹھ کر ایوان کے سامنے پہنچ گئے۔

مالیاتی تخمینوں کے مطابق وفاق سے پنجاب کو قومی مالیاتی ایوارڈ کے تحت 4390 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، آئندہ سال صوبائی آمدن کا ہدف 1209 ارب روپے سے زائد رکھا گیا ہے جبکہ بجٹ میں 910 ارب روپے کے سرپلس کا بھی تخمینہ شامل ہے۔

تعلیم کا بجٹ

تعلیم کے لیے 750 ارب روپے اور صحت کے لیے 500 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ، حکومت نے انسانی وسائل کی ترقی کو ترجیح دیتے ہوئے سماجی خدمات کے اخراجات میں اضافہ کیا ہے تاکہ عوامی سہولتوں کو بہتر بنایا جا سکے۔

ہنر مندی، روزگار اور ٹیکنالوجی کے منصوبے

اکنامک ٹرانسفارمیشن وژن کے تحتاسکلنگ پنجاب پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جس کے لیے 42 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت ایک لاکھ 62 ہزار سے زائد افراد کو جدید مہارتوں کی تربیت دی جائے گی اور بین الاقوامی معیار کے تربیتی مراکز قائم کیے جائیں گے۔

عالمی ضروریات کے مطابق ہنر فراہم کرنے کے لیے 51 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس کے تحت 2 لاکھ 40 ہزار افراد کو تربیت دی جائے گی۔ اس پروگرام سے سالانہ ترسیلات زر میں 466 ملین ڈالر اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

فرنٹیئر ٹیکنالوجی اور جدت کے لیے 12 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ اس پروگرام کے ذریعے لاکھوں افراد کو جدید ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ایک اور ٹیکنالوجی پروگرام کے لیے 19 ارب 70 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جس سے ہزاروں نوجوان مستفید ہوں گے اور ان کی آمدن میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

انوویشن پنجاب پروگرام کے تحت 1200 اسٹارٹ اپس کی معاونت کی جائے گی اور خواتین کی شرکت کو کم از کم 40 فیصد تک یقینی بنایا جائے گا۔

خواتین، سماجی بہبود اور تحفظ کے اقدامات

خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے متعدد منصوبے متعارف کرائے گئے ہیں۔ ڈے کیئر مراکز پر ایک ارب روپے خرچ کیے گئے جن سے 27 ہزار سے زائد خواتین مستفید ہوئیں۔ ویمن ایمپاورمنٹ پروگرام کے لیے مزید خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

دیہی خواتین کو مویشی فراہم کرنے کے لیے لائیو اسٹاک اثاثہ ٹرانسفر پروگرام کے تحت 2 ارب روپے خرچ کیے گئے جس سے 4385 خواتین فائدہ اٹھا چکی ہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں ویمن یونیورسٹی کے قیام کے لیے 55 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سماجی تحفظ کے لیے خصوصی پروگراموں کے تحت کمزور طبقات کو مالی امداد اور سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ معاشی عدم مساوات کو کم کیا جا سکے۔

امن و امان اور محفوظ پنجاب

حکومت نے محفوظ پنجاب کے وژن کے تحت امن و امان کے لیے 252 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ جدید پولیسنگ، ڈیجیٹل نگرانی اور ڈیٹا بیس سسٹمز کے ذریعے جرائم کی روک تھام کو بہتر بنانے کا منصوبہ ہے۔

اس منصوبے کے تحت ریجنل ڈیٹا سینٹرز، جدید کیمروں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ صوبے کے 19 اضلاع میں اسمارٹ نگرانی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔

مزید برآں کرائم سین یونٹس کے قیام کے لیے 14 ارب 21 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے تاکہ شواہد کے سائنسی تجزیے اور جرائم کی تفتیش کو جدید بنایا جا سکے۔

ذراعت

پنجاب حکومت نے زرعی شعبے کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے زراعت، لائیو اسٹاک اور آبی زراعت کے لیے مجموعی طور پر 132 ارب 54 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

ان شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے فروغ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ زرعی پیداوار میں اضافہ، دیہی روزگار کے مواقع اور برآمدی آمدن کو بہتر بنایا جائے۔

آبی زراعت کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس میں شرمپ فارمنگ، فش مارکیٹس اور ایکوا بزنس ہبز شامل ہیں۔ اس شعبے سے سالانہ کروڑوں ڈالر کی آمدن اور برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ جدید فش فارمنگ اور ہیچری منصوبوں پر بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ مقامی پیداوار کو بڑھایا جا سکے۔

زرعی میکانائزیشن

زرعی میکانائزیشن کے لیے 135 ارب روپے کا پروگرام متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے جدید زرعی مشینری کسانوں کو فراہم کی جائے گی۔

اس سے پیداوار میں اضافہ اور لاگت میں کمی کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔ گندم، پھلوں اور سبزیوں کی ویلیو چین بہتر بنانے کے لیے بھی اربوں روپے کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔

کسان کارڈ پروگرام

کسانوں کی معاونت کے لیے کسان کارڈ پروگرام کے تحت 10 لاکھ کسانوں کو سہولت فراہم کی جائے گی۔ گرین ٹریکٹر پروگرام کے ذریعے ہزاروں کسانوں کو سبسڈی پر ٹریکٹر دیے گئے ہیں جبکہ مزید مرحلوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

لائیو اسٹاک

لائیو اسٹاک کے شعبے میں مویشی پال افراد کے لیے خصوصی مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ لائیو اسٹاک کارڈ پروگرام اور مویشیوں کی تقسیم کے منصوبوں سے دیہی خواتین اور چھوٹے کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ویٹرنری ہسپتالوں اور موبائل ڈسپنسریز کے قیام سے جانوروں کی صحت کی سہولتیں بہتر کی جا رہی ہیں۔

راشن کارڈ پروگرام

راشن کارڈ پروگرام کے لیے 40 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کے تحت کم آمدن والے خاندانوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔ رمضان نگہبان پیکج کے تحت لاکھوں خاندانوں کو مالی امداد دی گئی تاکہ مہنگائی کے اثرات کم کیے جا سکیں۔

صاف پانی کی فراہمی

صاف پانی کی فراہمی کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن کے لیے 507 ارب روپے تک کی تجویز دی گئی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد شہری اور دیہی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔

شہری ترقی کے لیے لاہور، راولپنڈی، بہاولپور اور دیگر شہروں میں بڑے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں سیوریج، پانی کی فراہمی، سڑکوں کی بہتری اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبے شامل ہیں۔ مثالی گاؤں پروگرام کے تحت دیہی علاقوں کو ماڈل ویلجز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

صنعتی ترقی کیلئے بجٹ

صنعتی ترقی کے لیے 100 ارب روپے سے زائد کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں جن میں ای کامرس، ڈیجیٹل تجارت اور صنعتی اسٹیٹس کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

فلم سٹی منصوبے

فلم سٹی منصوبے کے تحت ثقافتی اور تخلیقی صنعتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے جس کے لیے 55 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے میں اسٹوڈیوز، کنونشن سینٹرز اور فلم اینڈ میوزک اسکول جیسے منصوبے شامل ہیں۔

ماحولیاتی تحفظ

ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اسموگ کے تدارک، جدید نگرانی نظام اور ماحولیاتی بہتری کے لیے اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اسموگ مانیٹرنگ کے لیے ہزاروں کیمرے اور کوئیک رسپانس سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔

سماجی تحفظ

سماجی تحفظ کے تحت ہمت کارڈ، خصوصی افراد کی معاونت، بزرگ شہریوں کے لیے اولڈ ایج ہومز اور دیگر فلاحی پروگرام شامل ہیں۔ دھی رانی پروگرام کے تحت اجتماعی شادیوں کے منصوبے بھی جاری ہیں۔

دیہی معیشت کی بہتری کے لیے لائیو اسٹاک، آبی زراعت اور زرعی ترقی کے منصوبوں پر مجموعی طور پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، ان اقدامات کا مقصد دیہی علاقوں میں خوشحالی لانا اور غربت میں کمی کرنا ہے۔

پنجاب حکومت نے مجموعی طور پر ترقی، روزگار، تعلیم، صحت، زراعت، صنعت اور سماجی تحفظ کو یکساں اہمیت دی ہے تاکہ ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کی بنیاد رکھی جا سکے۔

editor

Related Articles