مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما و وزیر اعظم کےمشیررانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ہتھیار اٹھانے والوں کو واپس لانے والوں سے مکمل تحقیقات ہونی چا ہیے۔
تفصیلات کے مطابق رانا ثناءاللہ کا نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ جب کے پی کے میں دہشت گردوں کو واپس لا یا گیا تو وہاں کے منتخب نمائندوں نے بھی اس کی بھر پور مخالفت کی تھی ۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہو رہے ہیں، دہشت گردوں کو واپس راستہ دینے کا جو فیصلہ ہوا تھا اس کا ملک و قوم کوبڑا نقصان ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک کسی آئینی ترمیم کی منظوری دی نہ ہی اس پر غور کیا تاہم پارلیمنٹ جب چاہےآئین میں ترمیم کرسکتی ہے اور یہ ممکنات میں سے ہے۔ رانا ثنا ء اللہ نے مزید کہا کہ ہمیں آ نیوالے چیف جسٹس پر پورا اعتماد ہے، وہ ملک میں آئین و قانون کے مطابق فیصلے کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان حماداظہر پر مکمل اعتماد کرتےہیں،شوکت بسرا،استعفیٰ مستردکردیا
دہری شہریت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دہری شہریت پر پابندی کا اصول درست ہے تویہ پابندی سب پر ہونی چاہیے، حکومت دہری شہریت کے بل کی حمایت یا اس قدغن کو ختم کر سکتی ہے۔