ہزاروں ارب روپے قرضون کے باوجود خیبرپختونخواحکومت نے کابینہ میں مزید توسیع اور بعض وزرا کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد کابینہ ارکان کی تعداد 28 تک پہنچ جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق مالی مشکلات اور ہزاروں ارب قرض کے باوجود خیبرپختونخواحکومت نے کابینہ میں مزید توسیع اور بعض وزرا کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد کابینہ ارکان کی تعداد 28 تک پہنچ جائے گی اس وقت کابینہ ارکان کی تعداد25ہے جن میں وزرا کی تعداد 15ہے مشیرکی تعداد پانچ جبکہ معاونین خصوصی کی تعداد چار ہے مشیر مشعال یوسفزئی کو کابینہ سے ہٹائے جانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں اور ان کو کابینہ سے ہٹانے کی سمری گورنر خیبرپختونخوا کوارسال کی جا چکی ہے مشعال کو کابینہ سے ہٹانے کے بعد کابینہ ارکان کی تعداد 24 ہو جائے گی جبکہ مزید ایک مشیر اور تین معاونین خصوصی کی شمولیت سے کابینہ ارکان کی تعداد 28تک پہنچ جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں تیل وگیس کا بڑا ذخیرہ دریافت
ذرائع کے مطابق وزیر اعلی کے پی علی امین گنڈاپور نے کابینہ میں مزید ایک مشیر اور 3 معاونین خصوصی شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعلی نے ایک مشیر اور 3 معاونین خصوصی کی سمری پر دستخط کر کے منظوری کیلئے گورنر کو بھیج دیئے۔ کابینہ میں مردان سے رکن صوبائی اسمبلی احتشام علی کو مشیر، ملاکنڈ درگئی سے رکن اسمبلی پیر مصورغازی کو معاون خصوصی بنایا جائےگا۔ سہیل آفریدی اور نیک محمد کے نام بھی سمری میں بطور معاونین خصوصی شامل کئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ مون سون سسٹم کی لپیٹ میں آگیا، سمندری طوفان کا ہائی الرٹ بھی جاری
احتشام علی کو مشیر صحت جبکہ سہیل آفریدی کو معاون خصوصی سی اینڈ ڈبلیو بنانے کا امکان ہے۔ پیرمصورغازی کو معاون خصوصی برائے ماحولیاتی تبدیلی، نیک محمد کو معاون خصوصی برائے ریلیف بنانے کا امکان ہے۔وزیر صحت قاسم علی شاہ سے صحت کا قلمدان لے کر سماجی بہبود کا محکمہ دینے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ میں مزید اہم تبدیلیوں کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے محکموں کی تبدیلی اور نئے ناموں کے لیے بانی پی ٹی آئی سے منظوری لی گئی ہے۔

