خیبر پختونخوا حکومت نے تحریک انصاف کےگزشتہ دور میں محکمہ ٹرانسپورٹ میں بھرتی 554 ملازمین کو ملازمت سے نکالنے کی منظوری دے دی۔ اب بل کو اسمبلی سے منظور کرنے کے بعد ملازمین کو فارغ کیا جائے گا۔
دستاویزات کے مطابق 3 ستمبر 2021 اور جنوری 2022 میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ جس کا چیئرمین ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ ہوتا ہے نے یومیہ اجرت پر ملازمین کی تعیناتی کی منظوری دی اور موقف یہ پیش کیا گیا کہ ریونیو جنریشن اور ڈائریکٹورٹ کی اضلاع تک توسیع کیلئے عملہ درکار ہے
جبکہ روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ صرف اثاثوں کیلئے ہے اور اس کی امدن بھی اتنی نہیں ہے۔ 23 مارچ 2022 کو پاکستان تحریک انصاف کے اس وقت کے رکن صوبائی اسمبلی اصف خان اور پیپلزپارٹی کی ایم پی اے نگہت یاسمین اورکزئی نے خیبر پختونخوا ایمپلائز اف ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ ریگولائزیشن اف سروسز بل 2022 پیش کیا اور 30 مئی کو وہ بل پاس ہوگیا، 12 جون کو گورنر نے اس پر دستخط کرکے ایکٹ بن گیا
جن ملازمین کو مستقل کیا گیا تھا ان میں گریڈ اٹھارہ کا ایک سنیئر ایڈمنسٹریٹر، گریڈ سترہ کا منیجر، گریڈ سولہ کے 133 اسسٹنٹس ، سی سی ٹی وی اپریٹر، 42 کمپیوٹر اپریٹرز، گریڈ گیارہ کے 172 جونیئر کلرکس، گریڈ چودہ میں 2 ٹیکنیشنز، 25 سب انجنیئرز، 46 سکیورٹی گارڈز، 114 نائب قاصد ، ہیپلر سمیت گیارہ ڈرائیورز مستقل ہوگئے۔ مستقل ہونے کے بعد ان ملازمین کو سول سرونٹس قرار دینے کیلئے بل میں ترامیم پیش کی گئی جس کی محکمہ ٹرانسپورٹ کے سیکرٹریٹ نے مخالفت کردی لیکن ترمیمی بل بھی پاس ہوگیا۔
ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث عدالت سے رجوع کیا، ذرائع کے مطابق ان ملازمین کی تقرری کیلئے کوئی اشتہار نہیں دیاگیا اور نہ ہی کوئی مناسب طریقہ کار اپنا یا گیاتھا کہ ان ملازمین کی کہاں پر ضرورت ہوگی اوران کے کام کی نوعیت کیا ہوگی، اس معاملے پر ٹرانسپورٹ سیکرٹریٹ اور صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کا الگ الگ موقف تھا۔
عدالت میں محکمہ نے یہ موقف پیش کیا کہ فنانس سے متعلق قانون سازی حکومت کا کام ہے اور بل پہلے کابینہ سے منظور ہوتا ہے کیونکہ کابینہ میں اس پر بحث ہوکر منظوری دی جاتی ہے تاہم مذکورہ بل پرائیوٹ ممبرز نے پیش کیا ہے جس کی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی ہے، عدالت نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے حق میں فیصلہ دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے ان ملازمین کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا کہ ان کی تقرری غلط طریقے سے ہوئی ہے جس کے باعث محکمہ ٹرانسپورٹ نے ایکٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کی صوبائی کابینہ نے منظوری دے دی۔

