آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی نظام بدلنے کا خدشہ، یورپ میں توانائی کے بڑے بحران کی دستک

آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی نظام بدلنے کا خدشہ، یورپ میں توانائی کے بڑے بحران کی دستک

یورپی یونین نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے عالمی معیشت پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔

یورپی یونین کے توانائی کمشنر ڈان جورجینسن نے اعتراف کیا ہے کہ اگر آج جنگ ختم بھی ہو جائے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے، تب بھی حالات کو معمول پر آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

گیس اور تیل کی بحالی میں فرق

توانائی کمشنر کا کہنا تھا کہ گیس کی پیداوار کو موجودہ سطح پر واپس لانا ایک طویل عمل ہے، جبکہ تیل کی پیداوار چند ہفتوں میں بحال تو ہو سکتی ہے لیکن مشرقِ وسطیٰ سے یورپ تک اس کی ترسیل میں غیر معمولی وقت لگے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانیوں کیلئے یورپ میں قانونی رہائش کا موقع،نئی پالیسی آ گئی

ان کا مزید کہنا تھا کہ بہترین صورتحال میں بھی آنے والا موسم گرما یورپ کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوگا، جہاں جیٹ فیول اور بعد ازاں ڈیزل کی شدید قلت پیدا ہونے کا قوی امکان ہے۔

عالمی معیشت اور فضائی سفر پر اثرات

بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا رہا ہے کہ عالمی ایئرلائنز نے پہلے ہی مختلف روٹس پر اپنی پروازیں بند کر کے ایندھن کی طلب کم کرنا شروع کر دی ہے۔

یورپی حکام کے مطابق اگر یہ صورتحال مہینوں یا سالوں تک برقرار رہی تو دنیا کا معاشی نظام مکمل طور پر بدل سکتا ہے، جس سے نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کو سنگین معاشی اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل ہوتی ہے۔ حالیہ علاقائی تنازعات اور سمندری راستوں کی غیر یقینی صورتحال نے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔

یورپ، جو پہلے ہی توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے، اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے کیونکہ اس کی صنعتی اور فضائی ضروریات کا بڑا حصہ اسی راستے سے وابستہ ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *