پاکستان تحریک انصاف کا ممکنہ آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف کا ممکنہ آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ممکنہ آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا فیصلہ کرلیا۔ پی ٹی آئی کی میڈیا اسٹریٹجی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئینی ترمیم کے حوالے سے قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس میں پی ٹی آئی نے میڈیا نمائندوں کی جانب سے بائیکاٹ ختم کرنے پر الیکٹرانک میڈیا اور کرنٹ افئیر پروگرامز کے بائیکاٹ کا ایجنڈہ موخر کر دیا گیا اور سوشل میڈیا کو مزید فعال کرنے کی حکمت عملی اپنانے کا بھی فیصلہ کیا۔

سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی آئینی ترمیم کی شدید مخالفت کرے گی اور اس کے خلاف بھرپور ردعمل دے گی۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ اس ترمیم کے بعد حکومت 63 اے کی تشریح بھی تبدیل کرا سکتی ہے، جس سے فلور کراسنگ والوں کے ووٹ شمار ہوسکتے ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ قاضی فائز عیسی کو ایکسٹنشن دینے کے لیے پی ٹی آئی کے ایم این ایز پر دباؤ ڈالنے اور انہیں ڈرا دھمکا کر ٹوٹنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سعد اللہ بلوچ کے اغواء سے قبل ان کی 16 سالہ بیٹی، اہلیہ اور خالہ کو اغواء کرنے کے واقعے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کے ایم این ایز ابھی بھی ثابت قدم ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی ٹکراؤ نہیں چاہتی اور اگر حکومت اور اس کے پیچھے کھڑے ادارے شرافت دکھائیں تو مذاکرات کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو ٹکراؤ اور لاہور جلسہ بھی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ بلوچستان میں 77 سالوں سے ہوتا آ رہا ہے لیکن اب یہ رویہ پورے ملک میں رائج کر دیا گیا ہے، جسے ختم کرنا ضروری ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *