امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی پوری بحریہ سمندر کی تہہ میں پہنچ چکی ہے جبکہ ایران کی فضائی و دفاعی صلاحیتیں بھی تباہ چکی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے ایک تجزیاتی مضمون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت انہیں سادہ لوح سمجھتی ہے، تاہم ایران گزشتہ 47 سال سے میرے علاوہ باقی تمام امریکی صدور کا فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔
ٹرمپ نے لکھا کہ میں نے انہیں کیا دیا؟ ایک تباہ حال ملک دیا ور میری پالیسیوں کے نتیجے میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اپنے بیان میں امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، فضائیہ تباہ ہو گئی جبکہ فضائی دفاعی نظام اور ریڈار مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں، ایران کے جوہری لیبارٹریز اور ذخیرہ گاہیں بھی تباہ کر دی گئی ہیں، امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث ایران روزانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کا نقصان برداشت کر رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے اور ایران دراصل اسے کھولنا چاہتا ہے تاکہ یومیہ کروڑوں ڈالر کی آمدنی دوبارہ حاصل کی جا سکے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران محض چہرہ بچانے کے لیے آبنائے ہرمز کی بندش کی بات کررہا ہے جبکہ حقیقت میں امریکا نے اس اہم بحری گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل بعض افراد نے مجھ سے رابطہ کر کے بتایا کہ ایران فوری طور پر آبنائے کو کھولنا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اس سے قبل بھی ایران کی عسکری صلاحیتوں کی تباہی سے متعلق متعدد دعوے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم اس دوران ایران کی جانب سے خطے میں کارروائیوں میں کشیدگی کی رپورٹس بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیاہے تاہم آبنائے ہرمز میں فوج کو امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی۔