لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے ممبر آزاد کشمیر اسمبلی غلام محی الدین کی نظر بندی کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔
جسٹس اسجد جاوید گھرال نے غلام محی الدین کی اہلیہ صبا دیوان کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر میاں علی اشفاق اور رانا معروف ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ دوران سماعت لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کے جواب پر برہمی کا اظہار کردیا۔
پنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ ہم نے درخواست گزار کی درخواست کو پیر کے لیے فکس کیا ہوا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس نظر بندی کے جواز کے طور پر کیا مواد ہے؟ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے غلام محی الدین کی نظر بندی کالعدم قرار دے کر رہائی کا حکم دے دیا۔
مزید پڑھیں: جج نے جلد بانی پی ٹی آئی کو جلد سزا سنانی ہے، علیمہ خان
دوسری جانب لاہور پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے 42 رہنمائوں اور کارکنوں کو نظر بند کروانے کے لیے مراسلہ بھجوادیا۔ مراسلہ اقبال ٹاون ڈویژن پولیس کی جانب سے صوبائی وزارت داخلہ کو بھجوایا گیا۔
نظربندی کے لیے بھیجے گئے مراسلے میں پی ٹی آئی کے میاں اسلم اقبال، میاں محمود الرشید کے بیٹے میان حسن،مہر واجد ، وقاص امجد، ندیم بارسمیت 42 افراد کے نام شامل ہیں۔ فہرست میں خواتین ورکرز کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ مراسلے کے مطابق فہرست میں شامل افراد افواج پاکستان کیخلاف انتشار پھیلاتے ہیں اور لوگوں کو نجی وسرکاری املاک کو نقصان پہچانے کی ترغیب دیتے ہیں۔
ن افراد کی وجہ سے امن وامان کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے لہذا ان کے 90 یوم کے نظر بندی کے احکامات جاری کیے جائیں۔

